Ameen Inamdar
Ameen Inamdar
Ameen Inamdar
Ghazalغزل
saaf dil aur nazar paak liye phirte hain
صاف دل اور نظر پاک لیے پھرتے ہیں مفلسی میں بھی یہ املاک لیے پھرتے ہیں دیجئے داد کہ اس دور پر آشوب میں ہم بے خطر لہجۂ بے باک لیے پھرتے ہیں ہم نے ہر حال میں جینے کا ہنر سیکھ لیا آپ کیوں دیدۂ نمناک لیے پھرتے ہیں خوش لباسی ہے فقط لائق تعظیم یہاں اور ہم دامن صد چاک لیے پھرتے ہیں آشیانوں کی سکونت کے مزے لوٹیں گے جو پرندے خس و خاشاک لیے پھرتے ہیں ہم کہ افسوس صد افسوس من و تو کے اسیر وہ کہ منصوبے خطرناک لیے پھرتے ہیں بس مقامات مقدس کی زیارت ہو نصیب ہم یہ حسرت شہ لولاک لیے پھرتے ہیں
khushaa-nasib haqiqat ye dil ne maani hai
خوشا نصیب حقیقت یہ دل نے مانی ہے حیات ہم کو بتانی نہیں بنانی ہے رکھے بھی کوئی تو کیوں کر تعلق خاطر میں اک جزیرہ مرے ارد گرد پانی ہے یہ کیا کہ رائی کا پربت بنا دیا تم نے ہمارا دل تو حوادث کی راجدھانی ہے ہماری پیٹھ میں خنجر اتارنے والے ستم کی طرز بدل دے بہت پرانی ہے بہت سے اہل زباں بے زبان جیسے ہیں بہت سے گونگوں کو زعم زبان دانی ہے امینؔ سوزش عشق حبیب ہیں دونوں اے شمع تیری مری ایک ہی کہانی ہے
kisi kisi pe khudaa mehrbaan ziyaada hai
کسی کسی پہ خدا مہرباں زیادہ ہے وہ جانتا ہے ضرورت کہاں زیادہ ہے زباں سے پوچھئے مت ہاتھ دیکھیے رکھ کر بدن میں درد کہاں کم کہاں زیادہ ہے چراغ عمر کی لو نے دلا دیا احساس کہ اس میں روشنی کم ہے دھواں زیادہ ہے مری سنو تو کدورت کا کھیل مت کھیلو کہ اس میں سود بہت کم زیاں زیادہ ہے نہ کیجے بات فرشتوں سے تلخ لہجے میں گلی میں شور جو وقت اذاں زیادہ ہے مقابلے کا اندھیروں سے حوصلہ ہے تو پھر ذرا سا نور بھی جگنو میاں زیادہ ہے ازل سے دونوں میں رشتہ اٹوٹ ہے تو امینؔ حیات موت سے کیوں بد گماں زیادہ ہے
har dil mein bebasi ki chubhan chhoD jaaungaa
ہر دل میں بے بسی کی چبھن چھوڑ جاؤں گا جب بھی تجھے اے ارض وطن چھوڑ جاؤں گا حاصل تمام عمر کا دھن چھوڑ جاؤں گا یعنی زبان گنگ و جمن چھوڑ جاؤں گا مغموم کس لیے ہے اری سر پھری خزاں میں تیرے نام اپنا چمن چھوڑ جاؤں گا کانٹے کریں گے یاد مری چاک دامنی پھولوں کو محو رنج و محن چھوڑ جاؤں گا ہر اک خوشی کرے گی مجھے در بہ در تلاش ہر اک جبین غم پہ شکن چھوڑ جاؤں گا جی جی کے سب ہی مرتے ہیں لیکن میں اے امینؔ مر مر کے زندہ رہنے کا فن چھوڑ جاؤں گا





