SHAWORDS
A

Ameer Dehlvi

Ameer Dehlvi

Ameer Dehlvi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dil mein yaad-e-gham-e-be-karaan rah gai

دل میں یاد غم بے کراں رہ گئی مرنے والا گیا داستاں رہ گئی نظم گلشن کی پابندیاں الاماں بے زبانی ہی بن کے زباں رہ گئی عشق کی آگ کہتی ہے دنیا جسے بن کے سینے میں سوز نہاں رہ گئی عمر بھر تیر بن کر کھنکتی رہی یاد پہلو میں ان کی جہاں رہ گئی اے امیرؔ اٹھ کے بالیں سے وہ کیا گئے زندگی عشق کی بے اماں رہ گئی

غزل · Ghazal

nigaah-e-mast-e-saaqi kaa ishaara paa ke piitaa huun

نگاہ مست ساقی کا اشارہ پا کے پیتا ہوں حدود ہوش کی منزل سے باہر جا کے پیتا ہوں گھٹائیں جھوم کر آتی ہیں جب میخانے کی جانب میں اپنی خوبیٔ تقدیر پر اترا کے پیتا ہوں در پیر مغاں سے اذن بادہ عام ہوتے ہی طبیعت مست ہو جاتی ہے میں لہرا کے پیتا ہوں بہر عالم ہے احساس خطا امید رحمت پر کبھی گھبرا کے پیتا ہوں کبھی شرما کے پیتا ہوں امیرؔ دہلوی مے خانۂ غالبؔ سے میں اکثر شراب فن خم شعر و سخن میں لا کے پیتا ہوں

غزل · Ghazal

vahi main huun vahi hangaama-e-gham tum nahin aae

وہی میں ہوں وہی ہنگامۂ غم تم نہیں آئے گواہی دے رہے ہیں اشک شبنم تم نہیں آئے ہے میرے واسطے ہر آنکھ پر نم تم نہیں آئے زمانہ کر رہا ہے میرا ماتم تم نہیں آئے پتہ دیتی رہی ہچکی تمہاری آمد آمد کا مگر جب تک نہیں نکلا مرا دم تم نہیں آئے شب فرقت طلوع صبح کے لمحے بھی آ پہنچے ستاروں کی چمک بھی ہو گئی کم تم نہیں آئے امیرؔ دہلوی نے جان دے دی ہجر کے مارے مگر اے میرے مونس میرے ہمدم تم نہیں آئے

غزل · Ghazal

sar-taa-ba-qadam haasil-e-'unvaan-e-ghazal ho

سر تا بہ قدم حاصل عنوان غزل ہو تم میرے لیے مطلع دیوان غزل ہو ہونٹوں کے تبسم سے چمن کھلتے ہیں لاکھوں مجموعۂ فیضان گلستان غزل ہو ہوتا ہے تمہیں دیکھ کے بیدار تخیل شاعر کے لیے حاصل سامان غزل ہو ہر ایک ادا مصرعۂ موزون غزل ہے تم روح غزل فکر غزل جان غزل ہو میں کیوں نہ امیرؔ ان کو کہوں کعبۂ ہستی جب ان کا تصور مرا ایمان غزل ہو

غزل · Ghazal

adaa-shanaas nazar dard-aashnaa na milaa

ادا شناس نظر درد آشنا نہ ملا کوئی حسین زمانے میں باوفا نہ ملا رہ طلب میں ملے راہزن ہزار مگر مرا نصیب کوئی مجھ کو رہنما نہ ملا کوئی مقام جبین نیاز کی خاطر برائے سجدہ در یار کے سوا نہ ملا وہ میکدے کے علاوہ کہاں سکوں پائے حدود دیر و حرم میں جسے خدا نہ ملا وہ میں ہوں راہ رو زندگی امیرؔ جسے پس تلاش بھی منزل کا کچھ پتہ نہ ملا

غزل · Ghazal

ye qayaamat bhi mire sar se guzar jaane do

یہ قیامت بھی مرے سر سے گزر جانے دو وعدہ کر کے وہ مکرتے ہیں مکر جانے دو خود بخود آئیں گے وہ بہر عیادت اک دن آہ کو تا حد معراج اثر جانے دو راہبر سست قدم قافلے والے بے ذوق مت کرو ایسے میں تم عزم سفر جانے دو موت سے پہلے محبت میں سکوں نا ممکن زندگی نام ہے مرنے کا تو مر جانے دو عزم محکم کا سہارا ہے سفینہ کو امیرؔ زد میں طوفان حوادث کی اتر جانے دو

Similar Poets