SHAWORDS
A

Ameer Hamza Aazmi

Ameer Hamza Aazmi

Ameer Hamza Aazmi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

qismat se jis kisi ko tiraa aastaan mile

قسمت سے جس کسی کو ترا آستاں ملے اس کا مزاج فرش زمیں پر کہاں ملے ہر ایک کو یہ رتبۂ عالی کہاں ملے وہ خوش نصیب ہے جسے درد نہاں ملے صہبائے عشق معرفت حق ملے مجھے پھر کچھ یہاں ملے نہ مجھے کچھ وہاں ملے طوفاں کی زد پہ رکھی ہوئی شمع کی طرح ہم لوگ بے اماں ہیں ہمیں بھی اماں ملے معلوم یہ ہوا کہ تری انجمن تھی وہ اہل زباں بھی ہم کو جہاں بے زباں ملے ناداں حصار ذات سے باہر نکل کے دیکھ گم کردہ کائنات کا شاید نشاں ملے حمزہؔ بھٹک رہے ہیں بھلا کس دیار میں چلئے وہاں زمیں سے جہاں آسماں ملے

غزل · Ghazal

mohabbaton ki ye vaardaatein koi sunegaa to kyaa kahegaa

محبتوں کی یہ وارداتیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا یہ بہکی بہکی تمہاری باتیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا رقابتوں کی قیامتوں سے کھنڈر میں تبدیل ہو رہی ہیں ہماری چاہت کی کائناتیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا تمہارے خط سے یہ لگ رہا ہے کہ روتے روتے لکھا ہے تم نے یہ ان کہی سی تمہاری باتیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ہمی ہیں مظلوم ہم ہی ظالم ہمی ہیں مقتول ہم ہی قاتل ہمی ہیں مہرے ہمی بساطیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ترے تصور کا آنا جانا مرے تخیل کی وادیوں میں بغیر دولہے کی یہ براتیں کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

غزل · Ghazal

miri jaanib nigaah-e-naaz kar aahista aahista

مری جانب نگاہ ناز کر آہستہ آہستہ مرے دل کے جزیرے میں اتر آہستہ آہستہ محبت دونوں جانب ہے تفاوت صرف اتنا ہے ادھر ہے تیز رو لیکن ادھر آہستہ آہستہ تری بیٹی کا قد تیرے برابر ہو گیا شاید تو اپنی خودکشی پر غور کر آہستہ آہستہ سحر آئی نہ آئے وہ ستارو جاؤ سو جاؤ کہ اب چلتے ہیں ہم بھی اپنے گھر آہستہ آہستہ جو کل تک میری بربادی کی قسمیں کھاتے پھرتے تھے وہی اب ہو رہے ہیں در بدر آہستہ آہستہ نہ جانے رہروان راہ کا اب حشر کیا ہوگا بھٹکتے جا رہے ہیں راہبر آہستہ آہستہ خدا کے واسطے سمجھا بجھا کر روک لے کوئی وہ دیکھو جا رہے ہیں روٹھ کر آہستہ آہستہ عداوت دل میں رکھنا مسکرا کر گفتگو کرنا سبھی کو آ گیا ہے یہ ہنر آہستہ آہستہ نمٹ لوں دوستوں کی دوستی سے پہلے اے حمزہؔ تو لوں گا دشمنوں کی بھی خبر آہستہ آہستہ

غزل · Ghazal

junun mein qalb-o-jigar ke TukDon ke marhalon se guzar gayaa huun

جنوں میں قلب و جگر کے ٹکڑوں کے مرحلوں سے گزر گیا ہوں میں اشک بن کر صلیب مژگاں پہ ریزہ ریزہ بکھر گیا ہوں بڑا دلاور بڑا سخی ہوں کہ دشمنوں کی کمین گہہ میں میں آج اپنے ہی نیزے کی نوک پہ لے کے اپنا ہی سر گیا ہوں مرے اعزا مجھے بٹوریں کہ میں بھی یک مشت مر کے دیکھوں کہ وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا بہت سی قسطوں میں مر گیا ہوں ہر ایک منظر وقار شعر و ادب کی سوداگری کا منظر میں خواب میں ہوں کہ جاگتا ہوں میں جی رہا ہوں کہ مر گیا ہوں مرا شعور و شعار و اشعار سب حد لا شعور میں ہیں بساط نقد و نظر کے سر سے مثال صرصر گزر گیا ہوں

غزل · Ghazal

khudaa-e-paak abhi itnaa mehrbaan to hai

خدائے پاک ابھی اتنا مہربان تو ہے ہمارے سر یہ کرائے کا سائبان تو ہے اٹک اٹک کے سہی کچھ تو بول لیتا ہوں کہ ٹوٹی پھوٹی سی میری بھی اک زبان تو ہے بچا کے رکھا ہے اسلاف کی امانت کو ہمارے گھر میں بزرگوں کا پاندان تو ہے خدا کے بندے خدائی پہ فخر پیدا کر تری زمیں نہ سہی تیرا آسمان تو ہے کسی کا جذبۂ الفت کسی کا جوش جنوں ابھی جوان ہوا تھا ابھی جوان تو ہے سمجھ کے اس کو حقوق العباد زندہ ہوں مری گلی میں پڑوسی کا ناب دان تو ہے یہیں پہ بیٹھ پرندے شکار کر حمزہؔ یہاں پہ شیر نہیں شیر کا مچان تو ہے

غزل · Ghazal

izhaar-e-haqiqat ki jasaarat nahin hoti

اظہار حقیقت کی جسارت نہیں ہوتی باغی ہوں مگر اس سے بغاوت نہیں ہوتی اک مرحلہ ایسا بھی تو آتا ہے جنوں میں خلوت میں بھی جب لذت خلوت نہیں ہوتی ہم معبد عرفاں کے پجاری ہیں ازل سے ہم سے شب دیجور کی بیعت نہیں ہوتی کچھ بھی اسے کہہ لیجئے انسان نہ کہئے وہ جس کو خطاؤں پہ ندامت نہیں ہوتی یہ کام مرے بس میں نہیں مصلحتاً بھی مجھ سے کبھی باطل کی وکالت نہیں ہوتی یوں قہر خداوند سے ڈرتا تو بہت ہوں لیکن کبھی توفیق عبادت نہیں ہوتی آنکھوں سے مرے نیند اچک لے گیا کوئی خوابوں میں بھی اب اس کی زیارت نہیں ہوتی

Similar Poets