
Amit Ojha Raaj
Amit Ojha Raaj
Amit Ojha Raaj
Ghazalغزل
chamchamaati har taraf shamshir hai
چمچماتی ہر طرف شمشیر ہے کس کے وحشی خواب کی تعبیر ہے مدتوں کے بعد مجھ سے وہ ملا اتنے برسوں بعد بھی دلگیر ہے در بدر یوں گھومتا ہوں عشق میں ساری دنیا اب مری جاگیر ہے پی رہا ہوں راجؔ اس کی آنکھ سے تیز اس مے کی بڑی تاثیر ہے
dard kaa naghma puraanaa mujh ko bhaataa thaa bahut
درد کا نغمہ پرانا مجھ کو بھاتا تھا بہت اس کا لہجہ شاعرانہ مجھ کو بھاتا تھا بہت شام کو ہم پھر ملیں گے اس گلی کے موڑ پر کہہ کے اس کا پھر نہ آنا مجھ کو بھاتا تھا بہت پنچھی لوٹیں شام کو جب ان کے سواگت کے لیے ڈالیوں کا سر جھکانا مجھ کو بھاتا تھا بہت یاد آتے ہیں وہ اکثر مجھ کو میرے رت جگے یار کا ہر دم جگانا مجھ کو بھاتا تھا بہت قہقہے یاروں کے وہ ہاسٹل کی دارو پارٹیاں ڈگمگا کر کھلکھلانا مجھ کو بھاتا تھا بہت
koi na samjhaa yahaan par savaal kaisaa hai
کوئی نہ سمجھا یہاں پر سوال کیسا ہے مجھے بتا تو سہی پھر وبال کیسا ہے غرور توڑ کے پٹکا جو وقت نے تجھ کو سبق تو ملنا ہی تھا پھر ملال کیسا ہے لجا گئی وہ کلی جب یہ پوچھا بھنورے نے لیا تھا میں نے جو چمبن وہ گال کیسا ہے





