SHAWORDS
Amit Satpal Tanwar

Amit Satpal Tanwar

Amit Satpal Tanwar

Amit Satpal Tanwar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

tumhaare lab pe naam aayaa hamaaraa

تمہارے لب پہ نام آیا ہمارا اسی سے نام بھی چمکا ہمارا گھروں سے نکلے تھے پگڈنڈیوں پر سفر میں مل گیا رستہ ہمارا جو میرا غم مٹا سکتا تھا یاروں اسی نے غم نہیں سمجھا ہمارا

غزل · Ghazal

pahle to raushni hui ijaad

پہلے تو روشنی ہوئی ایجاد بعد میں تیرگی ہوئی ایجاد شام تک آسمان سونا تھا رات کو چاندنی ہوئی ایجاد پہلے سورج نے دھوپ بانٹی پھر پیڑ بھی چھاؤں بھی ہوئی ایجاد رب نے تجھ کو بنایا پھر سوچا ہائے کیا سادگی ہوئی ایجاد پہلے آئی کنویں پہ پنہارن پھر مری پیاس بھی ہوئی ایجاد

غزل · Ghazal

kahin zamin ke paar aur aasmaan ke paar

کہیں زمین کے پار اور آسمان کے پار پرندے ڈھونڈ رہے ہیں گھر اس جہان کے پار میں تھک چکا ہوں ترا انتظار کرتے ہوئے مگر پکار رہا ہے کوئی تھکان کے پار بچھڑ کے رو رہا ہے اس قدر کہانی سے پہنچ گیا تھا وہ کردار داستان کے پار میں تیرے وصل کی شدت سے خوب واقف ہوں مجھے ملو تو ملو جسم کے مکان کے پار تمہارے ذکر کا معیار خوب گہرا ہے خموشیوں سے کہیں آگے اس زبان کے پار یقیں کا ہاتھ پکڑ لو یہ مشورہ ہے مرا بس ایک اجڑا ہوا دشت ہے گمان کے پار

غزل · Ghazal

ye sannaaTaa hai main huun chaandni mein

یہ سناٹا ہے میں ہوں چاندنی میں مزا بھی خوب ہے آوارگی میں لبوں پر مسکراہٹ گال گیلے ترا غم گھل گیا میری خوشی میں ذرا سی دیر کو کھڑکی جو کھولے فرشتے گھومیں گے اس کی گلی میں گھڑی کے پیر تھکتے ہی نہیں کیا گھڑی ایجاد کی تھی کس گھڑی میں جو مٹی کے بنائے تھے خدا نے یہ ایسے لوگ ہے کوزہ گری میں جو بت خانے میں تجھ کو سوچ لیں تو بھٹک جاتے ہیں رستہ بندگی میں مری پہلی محبت تم تھی جاناں تمہیں زندہ رکھوں گا شاعری میں

غزل · Ghazal

kahne vaale kah jaate hain

کہنے والے کہہ جاتے ہیں سہنے والے ڈھ جاتے ہیں پیاسا پیاس بجھا لیتا ہے دریا پیاسے رہ جاتے ہیں اتنا مت رو آنسو کے ساتھ خواب بھی اکثر بہہ جاتے ہیں

غزل · Ghazal

laash ki tarah ho chukaa huun main

لاش کی طرح ہو چکا ہوں میں جانے کس طرح جی رہا ہوں میں خود کے اندر ہی قید ہو بیٹھا اپنے پنجرے میں ہی پڑا ہوں میں صرف یادیں ملیں گی کمرے میں اب یہاں سے چلا گیا ہوں میں کون مجھ کو گھماتا رہتا ہے کس کی انگلی پہ ناچتا ہوں میں میں جو منزل پہ خود نہیں پہنچا اسی منزل کا راستہ ہوں میں آنسو میری ہنسی اڑاتے ہے مسکراہٹ پہ رو لیا ہوں میں زہر یوں ہی پیے گا اب مجھ کو ہوا یوں زہر پی چکا ہوں میں روح سے کچھ خریدنا ہے مجھے جسم کو سانسیں بیچتا ہوں میں کھو دیا روشنی میں اپنا وجود اب اندھیروں میں ڈھونڈھتا ہوں میں میرے پیچھے کوئی نہ روئے گا موت کے ساتھ جا رہا ہوں میں

Similar Poets