Amjad Mirza Amjad
Amjad Mirza Amjad
Amjad Mirza Amjad
Ghazalغزل
بے پردہ ہو کے جب وہ لب بام آ گیا آنکھوں پہ میری دید کا الزام آ گیا تا صبح کروٹیں ہی بدلتے رہیں گے ہم ان کا اگر خیال سر شام آ گیا بیباکیوں پہ ان کی کسی نے نظر نہ کی میری نگاہ شوق پہ الزام آ گیا اس دور میں بہت ہی غنیمت کہو اسے دکھ میں اگر کسی کے کوئی کام آ گیا کتنی ہماری عمر محبت تھی مختصر آغاز ہی کیا تھا کہ انجام آ گیا دنیا کے غم بھی ہم نے اسی میں ڈبو دئے امجدؔ نگاہ ناز کا جب جام آ گیا
be-parda ho ke jab vo lab-e-baam aa gayaa
گیا وہ دور ہواؤں سے تنگ ہونے کا کوئی ملال نہیں اپنے سنگ ہونے کا بسا ہوا ہے نگاہوں میں ایک ہی منظر بڑا ہی شوق تھا عکاس رنگ ہونے کا وہی جہان حوادث وہی کھلی آنکھیں قریب مرگ ہے احساس دنگ ہونے کا صدائے ساز جو بھاتی ہے دو گھڑی دل کا گمان تار نفس پہ ہے چنگ ہونے کا مجھے کسی سے بھی امجدؔ گلہ نہیں میں تو تلاش کرتا ہوں موقع دبنگ ہونے کا کھڑے رہو نہ مقابل ہر ایک کے امجدؔ کہ اس طرح سے تو خطرہ ہے جنگ ہونے کا
gayaa vo daur havaaon se tang hone kaa
کچھ ایسی چل رہی تھی ہوا دل نہیں لگا میلے میں زندگی کے ذرا دل نہیں لگا تنہائیوں نے مجھ کو نوازا تمام عمر محفل کے شور میں بخدا دل نہیں لگا دنیائے کاروبار میں اے تاجر عظیم سارا متاع و مال لگا دل نہیں لگا میں رونقوں سے شہر کی مایوس جب ہوا اہل خرد نے مجھ سے کہا دل نہیں لگا بے زاریوں کا پوچھا جو احباب نے سبب میں نے جواب ان کو دیا دل نہیں لگا امجدؔ تو چار دن کو ہی ٹھہرا سرائے میں پھر بھی وہاں سکوں نہ ملا دل نہیں لگا
kuchh aisi chal rahi thi havaa dil nahin lagaa
چھائی جو ہر سو بدلی کالی آنکھ میں آنسو آئے دیکھ سکے نہ پنچھی ڈالی آنکھ میں آنسو آئے میرے دیس کی جنت جیسی دھرتی اجڑی اجڑی ہر جا دیکھی جب بد حالی آنکھ میں آنسو آئے خیموں کی بستی میں وہ جو زندہ لاشیں ہیں دیکھ کے ان کی آنکھ سوالی آنکھ میں آنسو آئے ٹھنڈا سینہ دھرتی کا ہے بھوک کے مارے ہیں سب دن تیرہ اور رات ہے کالی آنکھ میں آنسو آئے کیونکر ہم پردیس کو اپنا دیس کہیں بتلاؤ کس ظالم نے رسم یہ ڈالی آنکھ میں آنسو کس کو سینے سے لپٹائیں کس کا ماتھا چومیں دیکھ کے گھر کا آنگن خالی آنکھ میں آنسو آئے جس نے گھر کے باغیچے کو اپنے خون سے سینچا چھوڑ گیا جب اس کا مالی آنکھ میں آنسو آئے امجدؔ کیسی آگ لگی ہے لفظوں کے پانی میں اجلی غزلیں ہو گئیں کالی آنکھ میں آنسو آئے
chhaai jo har su badli kaali aankh mein aansu aae
جب بھی دیس کو واپس جاؤں آنکھ میں آنسو آئے ذہن میں ماضی کو لوٹاؤں آنکھ میں آنسو آئے اپنے شہر کے گونگے بہرے لوگوں کو میں اپنے جب بھی دل کی بات سناؤں آنکھ میں آنسو آئے قدم قدم پر دھوکے باز ہیں پیار جتاتے ہیں ان کے راز سمجھ نہ پاؤں آنکھ میں آنسو آئے یہ مسکانیں جھوٹی خوشیاں کب تک بانٹوں میں کس کو دل کے زخم دکھاؤں آنکھ میں آنسو آئے کوئی نہ میرے آنسو پونچھے گلے نہ کوئی لگائے کس سے اب میں آس لگاؤں آنکھ میں آنسو آئے درد میں ڈوبا کیسے لکھوں دنیا کا افسانہ امجدؔ جب بھی قلم اٹھاؤں آنکھ میں آنسو آئے
jab bhi des ko vaapas jaaun aankh mein aansu aae





