
Amjed Ashraf Malla
Amjed Ashraf Malla
Amjed Ashraf Malla
Ghazalغزل
be-tah miri nazar hai ki khud kam-nazar huun main
بے تہہ مری نظر ہے کہ خود کم نظر ہوں میں از بس اسی خیال سے زیر و زبر ہوں میں جس کو گمان ہے کہ میں ہوں صاحب کمال اس کو خبر نہیں کہ بہت بے خبر ہوں میں فرمان دید دل کو دوں یا دوں دماغ کو اس بات کی سمجھ سے ابھی دور تر ہوں میں ظاہر میں خامشی کے کسی شے میں ہوں ڈھلا دراصل اپنے آپ میں اک شور و شر ہوں میں روشن ہوا یہ میرے سخن سے جہان پر اس دور مشق جور کا اک نوحہ گر ہوں میں تقدیر اپنی مجھ کو نہ آئی سنوارنی لیکن بہ زعم آپ بڑا ذی ہنر ہوں میں اے رب ذو الجلال مجھے بخش آگہی دنیا کے پیچ و خم میں الجھ کر کدھر ہوں میں امجدؔ پہ ہو کرم کی نظر مالک جہاں تیری عطا سے خوب سے بھی خوب تر ہوں میں
chaman ke nau-damida gul bahaaron se khafaa baiThe
چمن کے نو دمیدہ گل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیر غم ہوا بیٹھے ابھی فرد وفا اک جاں بہ لب ہے شہر گریاں میں تبھی سب پا بہ گل پہلے بچھا فرش عزا بیٹھے ہوائیں راج کرتی ہیں بجھا کر شمع الفت کو یہ سن کر کنج عزلت میں ستم کش مسکرا بیٹھے کہا جب اہل بینش نے جلال پادشاہی کیا غبار رہ اٹھا کر ہم ہوا میں تب اڑا بیٹھے کمال صبر بھی ہم کو میسر تھا مگر ہم تو جنوں میں اپنی ہستی کو زمانے سے مٹا بیٹھے ہماری حسرتوں پر اب لگی قدغن عداوت کی حریفوں کی حمایت میں رفیقوں کو ستا بیٹھے متاع و مال میرا سب لٹایا رہبروں نے ہے گلہ اب رہزنوں سے کیا کہ امجدؔ وہ بچا بیٹھے
kabhi jaltaa badan dekhaa kabhi uThtaa dhuaan paayaa
کبھی جلتا بدن دیکھا کبھی اٹھتا دھواں پایا گناہوں کے تسلسل سے عذاب جاں رواں پایا رموز بندگی ہم پر کھلے ان کے وسیلے سے جنہیں عالم نے رحمت کا محیط بیکراں پایا مقدر سے بھلا کیوں کر نہ اہل دل کریں شکوہ کہ شمع جاں جلا کر بھی اندھیرا درمیاں پایا بھرم اپنی خرد مندی کا ٹوٹا اس گھڑی جس دم حباب دجلہ میں ہم نے سمندر کو نہاں پایا بہار آئی چمن میں اور اسیران قفس نے بھی نئی رت کی ہوا پائی نیا اک پاسباں پایا مرا سر دیکھ کر بولے مرے احباب دشمن سے یہ کس سرکش کا سر ہے جو سر نوک سناں پایا نہ غنچہ کا نہ بلبل کا نہ ہی باد بہاری کا چمن میں تو فقط ہم نے نشان کشتگاں پایا خود اپنی ذات میں ہم قید ہو کر رہ گئے امجدؔ دل ناداں کو ہم نے بھی وگرنہ خونچکاں پایا





