Amr Mahki
اور بھی کچھ ہو عنایت کے لئے زندگی کم ہے محبت کے لئے ٹھیک ہے حسن پرستی بھی مگر کوئی چہرہ نہیں نفرت کے لئے رات دن کام پڑے رہتے ہیں وقت ملتا نہیں فرصت کے لئے ظلم کے شہر میں انصاف کہاں منتظر ہم ہیں قیامت کے لئے وہ تکلف ہی سے ملتا ہے ہمیں دل مچلتا ہے شرارت کے لئے لوگ کرتے ہیں وفا کا شکوہ ہم ترستے ہیں مروت کے لئے کس طرح بات چلے گی آگے ہم سخن چپ ہے شکایت کے لئے کون رشتوں کو نبھاتا ہے امرؔ ہر تعلق ہے ضرورت کے لئے
aur bhi kuchh ho inaayat ke liye