
Amrina Qaiser
Amrina Qaiser
Amrina Qaiser
Ghazalغزل
مرد ہوں ایسے ستم گر نہیں اچھے لگتے آئنے توڑتے پتھر نہیں اچھے لگتے چاہنے والے بچھڑ جائیں تو دکھ ہوتا ہے بے وفائی کے بھی منظر نہیں اچھے لگتے چاند تارو کرو تاریک شبوں کو روشن مجھ کو تاریک سے منظر نہیں اچھے لگتے مجھ کو ان کھوکھلے دعووں سے بھی گھن آتی ہے پھول کے بھیس میں پتھر نہیں اچھے لگتے بات امرینہؔ سے کرنی ہو تو کھل کر کرنا یہ حجابوں میں چھپے ڈر نہیں اچھے لگتے
mard hon aise sitamgar nahin achchhe lagte
میری نظروں سے بھی تو دور کہاں ہوتا ہے اپنے سائے پہ بھی اب تیرا گماں ہوتا ہے تیرے جذبات کے بہتے ہوئے دریا کی قسم لمحہ لمحہ تری چاہت سے جواں ہوتا ہے نیند آنکھوں سے بہت دور چلی جاتی ہے جب تصور میں ترا ذکر بیاں ہوتا ہے
meri nazron se bhi tu duur kahaan hotaa hai
گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی کاندھے سے کاندھا سب کے ملاتے ہوئے چلی ماں ہوں بہن ہوں بیٹی شریک حیات ہوں رشتوں کے سب تقاضے نبھاتے ہوئی چلی ہر شخص کی نگاہ کا تھا زاویہ جدا آنکھوں سے سب کی آنکھ ملاتے ہوئے چلی چلنا مرا مزاج ہے رکنا نہیں پسند اپنے لئے میں راہ بناتے ہوئے چلی امرینہؔ میرا نام ہے سادہ ہوں اس قدر سب دوستوں کے ناز اٹھاتے ہوئے چلی
ghar-baar kaa main bojh uThaate hue chali





