SHAWORDS
A

Anaam Damohi

Anaam Damohi

Anaam Damohi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہے وصل اگر اس میں تو فرقت بھی بہت ہے یہ عشق ہے اور اس میں اذیت بھی بہت ہے آسان نہیں راہ محبت کی دوانے غم بھی ہے بہت اس میں مسرت بھی بہت ہے آہستہ سے کر دیتا ہے وہ چاک گریباں اس ماہ جبیں رخ کی کرامات بھی بہت ہے ویسے تو نہیں دل میں کوئی اس کے علاوہ ایسے تو بہت بھیڑ ہے وسعت بھی بہت ہے آ آ کے مرے کان میں لیتیں ہیں ترا نام سرگوش ہواؤں میں شرارت بھی بہت ہے اک وقت تھا محروم تھا ہر چیز سے انعامؔ اب نام ہے رتبہ بھی ہے شہرت بھی بہت ہے

hai vasl agar is mein to furqat bhi bahut hai

غزل · Ghazal

سماعت سے جب آوازوں کا ناطہ ٹوٹ جاتا ہے تو اپنے آپ میں انسان کتنا ٹوٹ جاتا ہے بھروسہ ٹوٹنے پر کس لئے افسوس کرتے ہو یہاں تو جسم سے سانسوں کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے کوئی ہم راز ہمسایہ ضروری ہوتا ہے یارو سفر میں زیست کے انسان تنہا ٹوٹ جاتا ہے انا اب چھوڑ دو تم اور میں بھی چھوڑتا ہوں ضد یہ بل پڑتے ہیں تو ہر ایک دھاگا ٹوٹ جاتا ہے مرا ارمان میرا خواب میرا دل مرا جذبہ خفا ہونے سے تیرے دیکھ کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے میں انساں ہوں اگر میں ٹوٹ بھی جاؤں تو حیرت کیا نظر لگنے سے تو بے جان شیشہ ٹوٹ جاتا ہے

samaa'at se jab aavaazon kaa naata Tuut jaataa hai

غزل · Ghazal

بعد تیرے کیا بتائیں اور کیا چلتا رہا زندگی بھر زندگی کا مسئلہ چلتا رہا رات بھر بیٹھا رہا میں رو بہ روئے ماہتاب اور اس سے تذکرہ بس آپ کا چلتا رہا خواب میں آتی نہ تھیں شہزادیاں ان کے کبھی مفلسوں کے خواب میں بھی فاصلہ چلتا رہا مارتے ہیں بستیوں کے لوگ پتھر قیس کو یعنی صحرا کا سفر اچھا بھلا چلتا رہا لمس کو تیرے کبھی میں بھول ہی پایا نہیں ساتھ میرے عمر بھر اک حادثہ چلتا رہا شاخ دل سے جھڑ چکی تھی عشق کی ہر اک کلی رشتہ اپنے درمیاں بس نام کا چلتا رہا میں تو بس تکتا رہا ان کے لب و رخسار کو ان کے دل میں اب خدا جانے کہ کیا چلتا رہا عمر بھر پنہاں رہا قلب و جگر میں تیرا غم عمر بھر خوشیوں سے میرا فاصلہ چلتا رہا اس لیے انعامؔ منزل تک نہ جا پائے قدم ایک سایہ ساتھ میرے خوف کا چلتا رہا

baa'd tere kyaa bataaein aur kyaa chaltaa rahaa

غزل · Ghazal

جڑاؤ اتنا بھی آساں نہیں وفاؤں سے الجھنا پڑتا ہے دنیا کے دیوتاؤں سے کچھ اس طرح بھی لپٹتے ہیں درد و غم مجھ سے کہ جیسے بچہ لپٹتے ہیں اپنی ماؤں سے فراق یار میں مجھ کو قضا تو آنی تھی چراغ بچتا کہاں تک بھلا ہواؤں سے بچا سکی نہ مریض وفا کو چارہ گری طبیب کہتے تھے بچ جائے گا دواؤں سے چلا گیا ہے وہ صحرا سے اپنے گھر کی طرف پلٹ کے آ گیا انعامؔ بھی خلاؤں سے

juDaav itnaa bhi aasaan nahin vafaaon se

Similar Poets