Anand Bakhshi
aaya hai mujhe phir yaad vo zaalim guzraa zamaana bachpan kaa
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم گزرا زمانہ بچپن کا ہائے اکیلے چھوڑ کے جانا اور نہ آنا بچپن کا وہ کھیل وہ ساتھی وہ جھولے وہ دوڑ کے کہنا آ چھو لے ہم آج تلک بھی نہ بھولے وہ خواب سہانا بچپن کا اس کی سب کو پہچان نہیں یہ دو دن کا مہمان نہیں مشکل ہے بہت آسان نہیں یہ پیار بھلانا بچپن کا مل کر روئیں فریاد کریں ان بیتے دنوں کو یاد کریں اے کاش کہیں مل جائے کوئی جو میت پرانا بچپن کا