Anand Banarasi
بے خود ہیں بے خودی کی سزا پا رہے ہیں ہم مثل حباب بن کے مٹے جا رہے ہیں ہم معبود کون مشق عبادت تھے کس لیے ناحق یہ بوجھ سر پہ لیے جا رہے ہیں ہم واعظ شراب پینے دے ہم سے گلہ نہ کر ساقی پلا رہا ہے پئے جا رہے ہیں ہم ہوگی تری گزر نہ کبھی جس دیار میں زاہد ہمیں نہ چھیڑ وہیں جا رہے ہیں ہم آنندؔ کے کرشمے سبھی سوز و ساز ہیں ہر نے میں صوت غیب سنے جا رہے ہیں ہم
be-khud hain be-khudi ki sazaa paa rahe hain ham