Anand Verma
عشق اس کو مجھ سے ہے یا تھا کبھی مر کے بھی میں جان نہ پایا کبھی فکر مجھ سے پوچھتی ہے رات دن نیند ہے پھر کیوں نہیں سوتا کبھی دائروں کے دائرے ہے سب جگہ دائرہ بھی خوش نہیں ہوگا کبھی کاٹنے پر سانپ کے کچھ نہ ہوا ڈانٹنے پر اس کے میں رویا کبھی وقت مجھ کو ہر دفعہ پکڑے رکھا وقت کو میں نہ پکڑ پایا کبھی بوند ہی باقی بچی ہے عشق کی بہہ رہا ہوتا تھا اک جھرنا کبھی آج بھی آنندؔ ہنس کر ہی ملا درد اس کا کم نہیں ہوگا کبھی
ishq us ko mujh se hai yaa thaa kabhi