
Anant Dhavale Mushfiq
Anant Dhavale Mushfiq
Anant Dhavale Mushfiq
Ghazalغزل
koi paiham pukaartaa hai mujhe
کوئی پیہم پکارتا ہے مجھے جانے کس کا بھرم ہوا ہے مجھے ایک پیکر ہے دھول مٹی کا جستجو کا یہی صلہ ہے مجھے گنتے رہنا ہمیں نہ اترانا اڑتی سانسوں نے یہ کہا ہے مجھے آپ کی چاہتیں بجا لیکن میرا آنگن بلا رہا ہے مجھے نہیں درکار آسماں مشفقؔ ہے بہت مختصر ہوا ہے مجھے
raat aankhon mein rahin bedaariyaan
رات آنکھوں میں رہیں بیداریاں دم بہ دم اٹکھیلتی بے چینیاں غم کی بے عنواں لکیروں کی طرح بنتی گرتی موج کی کلکاریاں راہ چلتے ہم کہاں تک آ گئے ہو گئیں بوجھل گھنی آبادیاں یوں گزر سکتے ہیں اپنے روز و شب کچھ تمہارا ذکر کچھ تنہائیاں بے حس و بے صوت تھا جنگل خموش ناگہاں چلنے لگیں پروائیاں
yahaan par khatm ho jaati hain raahein
یہاں پر ختم ہو جاتی ہیں راہیں بکھر جاتی ہیں سب امکان گاہیں جنوں بڑھتا چلا جاتا ہے ہر سو اندھیرے کھول کر چلتے ہیں باہیں دھندلکا چیر کر آنے لگی ہیں پگھلتی ڈوبتی کس کی کراہیں پرندے خلوتوں سے ٹوٹ نکلے پھڑکتی جا رہی پر زور آہیں یہ منظر کیا ہے مشفقؔ کون ہو تم تمہیں حاصل نہیں کیوں کر پناہیں
baat ye bhi samajhne vaali hai
بات یہ بھی سمجھنے والی ہے کچھ نہ کہنا بھی ایک گالی ہے اس پہ موقوف ہیں کئی چیزیں یہ جو ننھی سی ایک ڈالی ہے کھوئے رہنے کی یہ روش اپنی کتنی بے کار کیسی خالی ہے کبھی دیکھیں اسے الٹ کر بھی یہ روایات کی جو تھالی ہے سارے امکاں اسی میں ڈوب گئے بات کہنی جو ہم نے ٹالی ہے خوش نہ رہنے کی یہ جو عادت ہے ایک دوجے کو ہم نے ڈالی ہے
raaegaani bhi raaegaan Thahri
رائیگانی بھی رائیگاں ٹھہری زندگی بس دھواں دھواں ٹھہری جھانک لینا کسی دریچے سے رات کی پالکی کہاں ٹھہری کتنے گلشن سجا دئے اس نے یہ ندی جس جگہ جہاں ٹھہری صاف دامن ہے کون یاں مشفقؔ سب کی تاریخ خونچکاں ٹھہری





