SHAWORDS
Anas Nabeel

Anas Nabeel

Anas Nabeel

Anas Nabeel

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

کپڑوں میں مکانوں میں نوالوں میں پڑے ہیں سب لوگ انہیں تین خیالوں میں پڑے ہیں ہم اہل نظر بند ہیں تاریک گھروں میں اندھے ہیں کہ دن رات اجالوں میں پڑے ہیں رونے سے لکیریں مرے چہرے پہ بنی ہیں ہنسنے سے گڑھے آپ کے گالوں میں پڑے ہیں تم ساتھ نہ تھے جب تو فقط اشک دھرے تھے اب خواب بھی آنکھوں کے پیالوں میں پڑے ہیں اس قوم پہ ذلت کی جمی گرد تو کیا ہے پاکیزہ صحیفے بھی تو جالوں میں پڑے ہیں چاندی کے حسیں جام میں ڈوبے تھے جو کل شب سنتے ہیں نبیلؔ آج وہ نالوں میں پڑے ہیں

kapDon mein makaanon mein nivaalon mein paDe hain

غزل · Ghazal

نور کی بارش ہو یوں دل کی گلی میں ایک بار کاش ٹکرائیں وہ مجھ سے تیرگی میں ایک بار حج بھی کر تو جذبۂ عشق و وفا کے ساتھ کر عشق بھی حج کی طرح کر زندگی میں ایک بار پھر ہوا یوں اس کا غم میرے گلے ہی پڑ گیا لگ گیا تھا وہ گلے یوں ہی خوشی میں ایک بار زندگی بھر کے غموں میں اک ہی غم ہوگا عظیم پیدا ہوتا ہے مجدد اک صدی میں ایک بار دے چکا ترک تعلق کے اشارے وہ مجھے گفتگو میں بارہا اور خاموشی میں ایک بار ہم بھی ہیں اسٹیج پر موجود لیکن اے نبیلؔ ہم کو لایا جائے گا بس روشنی میں ایک بار

nuur ki baarish ho yuun dil ki gali mein ek baar

غزل · Ghazal

ہوئے نہ آندھی کے آگے جو سر خمیدہ شجر سو لگ رہے ہیں ہمیں اپنے ہم عقیدہ شجر بچھڑ کے تجھ سے بڑے ضبط سے میں چل تو پڑا مگر رلا گئے رستے کے آب دیدہ شجر اے بیلو تم کو نہیں خوف تم تو پاؤں میں ہو اکھاڑے جائیں گے خوددار چیدہ چیدہ شجر سجا لئے نئے گملے الگ الگ سب نے اکیلا رہ گیا گلشن میں سن رسیدہ شجر ہمیشہ شہر سے دھتکارے جانے والوں کو گلے لگاتے ہیں جنگل کے برگزیدہ شجر ہمارے ذکر پہ کہتے ہیں یوں پرندے اب نبیلؔ کون وہی نا خزاں رسیدہ شجر

hue na aandhi ke aage jo sar-khamida shajar

غزل · Ghazal

تازگی ہر شے پہ آئی موسم برسات میں کھل اٹھا زخم جدائی موسم برسات میں کیسے مردہ لوگ پھر سے زندہ ہوں گے دیکھ لو دی زمینوں نے گواہی موسم برسات میں دشمنوں کو ایک کر دے رب کی قدرت بے مثال فصل باراں دھوپ لائی موسم برسات میں ابر تو انساں کے جیسا عدل سے غافل نہ ہو کیا زمیں اپنی پرائی موسم برسات میں ٹھنڈی پروائی چلی تو ان کی موج زلف بھی گال کے ساحل تک آئی موسم برسات میں سوندھی سوندھی سی مہک آئی تو یاد آیا ہمیں آپ کا دست حنائی موسم برسات میں وقت جس کے ساتھ ہے تو بھی اسی کے ساتھ چل گرمیوں کی کر برائی موسم برسات میں گھن گرج کر داد دیتے ہیں تمہیں بادل نبیلؔ کیا غزل تم نے سنائی موسم برسات میں

taazgi har shai pe aai mausam-e-barsaat mein

غزل · Ghazal

خوشی کے وقت بھی وہ لگ رہا تھا رویا ہوا تھا باغ وصل میں فرقت کا بیج بویا ہوا وہ رات خواب میں آیا ہوا تھا ملنے مجھے مرا نصیب تھا بیدار میں تھا سویا ہوا نیا لباس کفن تھوڑی ہے جو مل جائے سو ہم نے عید پہ پہنا لباس دھویا ہوا وہ میرے سامنے ہے اور فون میں گم ہے ملا ہے برسوں کا کھویا ہوا بھی کھویا ہوا تو جس کی لاش کو اب جھیل سے نکالتا ہے وہ بحر غم میں تھا پہلے ترا ڈبویا ہوا ستم گرو یہ سزاؤں کی فصل کاٹو اب کسی نے خون سے تھا انقلاب بویا ہوا تو یوں سمجھتا ہے حق دار خود کو شہرت کا تجھے مرے ہوئے عرصہ نبیلؔ گویا ہوا

khushi ke vaqt bhi vo lag rahaa thaa royaa huaa

غزل · Ghazal

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل اجلے سے میرے سینے میں ہے داغدار دل تقویٰ سے گر بھرا ہو تو پھر نیکیوں کی سمت اس طرح دوڑتا ہے کہ ہو شہسوار دل ہیں آج سب کے سینوں میں پتھر رکھے ہوئے برسائے آسمان سے پروردگار دل کب تک تو اس کی یاد کو رکھے گا اوڑھ کر پھٹنے لگی ہے اب تو قبا یہ اتار دل کیسی منافقانہ روش ہے کہ جسم کو دیتا ہے پاک خون یہی پر غبار دل کانٹوں سے غم کے اس کو چھڑانے کے واسطے کھینچا جو میں نے اور ہوا تار تار دل ہر بات پر ہے میرا یہ دشمن بنا ہوا سینے میں چبھتا رہتا ہے مانند خار دل کہتا ہے شعر داغ کے لہجے میں اب نبیلؔ ہو نہ ہو اس کا بھی ہے بہت بے قرار دل

rakhtaa hai apne saath gunaahon kaa baar dil

Similar Poets