
Andaz Amrohvi
Andaz Amrohvi
Andaz Amrohvi
Ghazalغزل
jin ke qabze mein pal nahin hote
جن کے قبضے میں پل نہیں ہوتے ان کے حصے میں کل نہیں ہوتے پھینک دے ہاتھ سے یہ تلواریں مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے سوچ کر تھک چکا ہر ایک غریب جھوپڑے کیوں محل نہیں ہوتے زہر ہوتا ہے اس کے سینے میں جس کے ماتھے پہ بل نہیں ہوتے ٹھوکروں سے وفا ضروری ہے راستے یہ سرل نہیں ہوتے
azmaton kaa dayaar ban ke raho
عظمتوں کا دیار بن کے رہو شہر میں شہر یار بن کے رہو خاک بن کر بلندیاں چھو لو راستے کا غبار بن کے رہو میں تمہارے لئے پریشاں ہوں تم مرے غم گسار بن کے رہو ہار جاؤ تو ہار مت سمجھو جیت جاؤ تو ہار بن کے رہو زندگانی ہے جنگ کا میدان بس یہاں آر پار بن کے رہو بے قراروں کو کچھ قرار آئے کچھ دنوں بے قرار بن کے رہو زندگی خود شراب ہے اندازؔ اپنا خود ہی خمار بن کے رہو
chalnaa aasaan nahin yahaan pyaare
چلنا آساں نہیں یہاں پیارے ہر قدم پر ہے امتحاں پیارے اپنا چہرہ ہی کہہ اٹھا سب کچھ اب رہا کون رازداں پیارے کس کے پیچھے یہاں چلے کوئی ہیں سبھی میرے کارواں پیارے جا کے پوچھو غریب بچوں سے کیسی ہوتی ہیں روٹیاں پیارے تیرے کہنے سے جو بجائی جائیں کیا کروں ایسی تالیاں پیارے یوں تو کہنے کو درمیاں ہے سبھی پر نہیں کوئی درمیاں پیارے مجھ میں کچھ خوبیاں بھی ہیں اندازؔ صرف مت دیکھ خامیاں پیارے
jise bhi dekhiye saahil se aa ke pyaar kare
جسے بھی دیکھیے ساحل سے آ کے پیار کرے سوال یہ ہے کہ دریا کو کون پار کرے وہ آ بھی جائے تو رہتا ہے انتظار اس کا اب ایسے شخص کا کیا کوئی انتظار کرے جو جانتے ہی نہیں اک قطار میں اڑنا نگاہ ایسے پرندوں کو کیا شمار کرے لباس جس کا ہے اجلا فقط مرے دم سے مری قمیص کے دھبے کو وہ شمار کرے وہیں اٹھائی ہے انداز نے نظر اپنی نظارہ خود کو نظر پر جہاں نثار کرے
umr bhar chaltaa rahun ye haadisa rahne diyaa
عمر بھر چلتا رہوں یہ حادثہ رہنے دیا اس نے منزل چھین لی اور راستہ رہنے دیا اس طرح اس نے کیا بیماریٔ غم کا علاج اچھا ہونے پر بھی محتاج دوا رہنے دیا جب گئے تھے میری راہوں میں جلا کر تم چراغ آندھیوں کو کس لئے مجھ سے خفا رہنے دیا چاہے جھوٹا ہی سہی اس نے دلاسہ تو دیا کم سے کم جینے کا میرے سلسلہ رہنے دیا تھا حقیقت پر فدا سونے سے بھی ڈرتا رہا عمر بھر آنکھوں کو خوابوں سے جدا رہنے دیا یوں کیا مجھ پر ستم آخر تیری پہچان نے میری ہی پہچان کو مجھ سے جدا رہنے دیا خود سے جب انداز ملنے کا نہیں تھا حوصلہ آئنہ چہرے کے آگے کیوں رکھا رہنے دیا
jis ne dekhaa vo ho gayaa us kaa
جس نے دیکھا وہ ہو گیا اس کا کون بتلائے اب پتہ اس کا زندگی بھر یہ جستجو ہی رہی کون تھا اپنا کون تھا اس کا ہو گیا بوڑھا وہ غریب آخر آج تک گھر نہ بن سکا اس کا اس کی تھانے میں جیب خالی تھی بس یہی ایک جرم تھا اس کا طے کرے ہے سفر وہ اوروں کا کون روکے گا راستہ اس کا جانے کیا اس نے لکھ دیا ہو مجھے اس لئے خط نہ پڑھ سکا اس کا نظر آ کر بھی وہ نہ آئے نظر ویسے دیدار ہر جگہ اس کا





