Anees Ahmad
ریل آئی مسافر جدا ہو گیا حق ہمارا تمہارا ادا ہو گیا جسم پرچھائیں تھا نور میں اڑ گیا دیکھتے دیکھتے میں خدا ہو گیا ڈھلتے سورج کے آگے سدا دوستو سایۂ جسم میرا بڑا ہو گیا بجلیوں کے اندھیروں میں ہم کھو گئے دور مٹی کا جب سے دیا ہو گیا
rail aai musaafir judaa ho gayaa