
Anfal Rafiq
Anfal Rafiq
Anfal Rafiq
Ghazalغزل
thi aazmaaishon ki bhi ik had hazaar shukr
تھی آزمائشوں کی بھی اک حد ہزار شکر ہم پر کوئی نہ فرق پڑا صد ہزار شکر آدھا تو سایا جائے گا ہمسائے کی طرف اپنے شجر کا اتنا تو ہے قد ہزار شکر آنکھوں سے ایک خواب کی رخصت ہزار حیف ڈھلتے پہر میں شعر کی آمد ہزار شکر ہم بھی کسی سے اس کے سوا مانگتے نہیں ہوتی نہیں ہے اپنی دعا رد ہزار شکر ہم خاک بخت ہیں تو یہی ہے ہمارا تخت ہم کو نہیں ہے خواہش مسند ہزار شکر گرہیں نہ کیا کیا کھول دیں اس کی نگاہ نے میں کیا ہوں اور کیا مرا مقصد ہزار شکر ہر شب چراغ یاد کا ہوتا ہے اہتمام ویراں نہیں ہے دل کا یہ معبد ہزار شکر مقبول ہو گئے مرے اشک شب فراق آنے لگی ہے شعر کی ابجد ہزار شکر
donon mein hi jazbon kaa ik dariyaa thaa
دونوں میں ہی جذبوں کا اک دریا تھا میں کہتی تھی لیکن وہ چپ رہتا تھا خوابوں کے جگنو تھے جن سے رات گئے ایک ستارہ میرا آنچل بنتا تھا وصل کی گھڑیاں گھلتی گھٹتی جاتی تھیں فرقت کے آسیب کا ان پر سایہ تھا اس کو منزل پا لینے کی جلدی تھی مجھ تک رستہ دور سے ہو کر آتا تھا ٹوٹے رشتے کرچیاں بن کر چبھتے ہیں چھوڑ کے جانے والے نے کب سوچا تھا میری آنکھ کے دریا کو صحرا کر کے اس کو یہ احساس ہوا وہ پیاسا تھا اس کی یاد نے سبز رتوں کو زرد کیا سرخ سا جو اک پھول کبھی یاں کھلتا تھا آنے والا ہر لمحہ بتلاتا ہے وہ لمحہ جو بیت گیا سو اچھا تھا
miraa sukut jo TuuTaa to sab miTaa degaa
مرا سکوت جو ٹوٹا تو سب مٹا دے گا ترے وجود کی بنیاد کو ہلا دے گا دبی ہوئی کوئی چنگاری آج بھڑکے گی ترا خیال بجھی آگ کو ہوا دے گا ہمارے بیچ رہے گا کوئی نہ کوئی یہاں جو درمیاں کے سفر میں مجھے تھکا دے گا سخن طراز سہی تو مگر یہ دل زدگاں کہاں یہ حرف تسلی انہیں شفا دے گا بہت ہیں مرحلے آنکھوں سے منزل دل تک جسے ہے پانے کی عجلت ہمیں گنوا دے گا یہ سبز رت میں نظر بھر کے دیکھنا تجھ کو خزاں کی شام اچانک ہمیں رلا دے گا جو رنج سہہ کے بھی رہتے ہیں مبتلا تیرے تو ان کے صبر کا آخر کوئی صلہ دے گا
sochne lagti huun ye kaun hai kyaa boltaa hai
سوچنے لگتی ہوں یہ کون ہے کیا بولتا ہے چپ رہوں تو مرے اندر کا خلا بولتا ہے بات سننے کا ہنر جیسے کہیں ہے ہی نہیں ہم نے جس جس کو یہاں دیکھا سنا بولتا ہے لفظ تیرے ہیں مگر بات کسی اور کی ہے کون ہے جو ترے لہجے میں چھپا بولتا ہے یہ شکایت تھی ہمیں دل سے کہ خاموش ہوا اب جو بولا ہے تو پہلے سے سوا بولتا ہے دیکھ اے یار بتایا نہیں جاتا ہر دکھ ماں کا غم وہ ہے جو چہرے پہ لکھا بولتا ہے خوشبو گاؤں کی چلی آتی ہے میلوں پہلے نرم مٹی میں مرے گھر کا پتہ بولتا ہے اک ترے بولنے سے آج کھلا تو وہ نہیں ایسے لہجے میں کہاں میرا خدا بولتا ہے
barson jis ko aankh se paani Daalaa thaa
برسوں جس کو آنکھ سے پانی ڈالا تھا پیڑ نہیں کوئی روگ تھا جس کو پالا تھا چھت پر بیٹھے بیٹھے اس کا خیال آیا اٹھ کر دیکھا تو کمرے پر تالا تھا ہم سے بھی اک بار ہوئی تھی دل شکنی دل میں کب کچھ تھا بس تجھ کو ٹالا تھا خدشوں کی دیوار گراتے شب ڈھلتی جیسے سچ مچ اس کے پار اجالا تھا رکھ دیں کمرے میں اپنی سب تحریریں اک خط ان میں اب بھی دینے والا تھا
kyon huaa zabt kaa malaal mujhe
کیوں ہوا ضبط کا ملال مجھے اے جنوں رک ذرا سنبھال مجھے خامشی روز چیختی ہے مری کھا رہے ہیں مرے سوال مجھے آئنہ بن گئی کہ چاہیے تھا تجھ کو عکس اور دیکھ بھال مجھے خود سمٹ آئے مجھ میں وہ سر شام اور کہہ کر پکارے شال مجھے سوچتی ہوں کہ کیوں نہ لکھ دوں سب اک محبت کا ہے خیال مجھے تیرے لہجے کی وہ تھکن افسوس کر سکا کب سفر نڈھال مجھے ہاتھ سے وار کب تلک روکوں اب ضروری ہے تیری ڈھال مجھے میں نے جس طرح تجھ کو چاہا ہے دے ذرا ایک بھی مثال مجھے





