Anis Shikari
تفکیر کو حروف کے سانچے میں ڈھال کے الفاظ کو تو بخش عناصر جمال کے تعریف تیری ایڑ ہو تنقید ہو لگام صحرائے فکر میں اڑا گھوڑے خیال کے بہر حیات میں ہیں حقیقت کے جو صدف اشعار میں پرو تو یہ موتی نکال کے ہے تیری جائیداد یہ حریت کلام کر صرف اس متاع کو نہ رکھ سنبھال کے شیرینیٔ حیات اور تلخییٔ تجربات ہوں ذکر تیرے شعر میں ہجر و وصال کے ظاہر تضاد زیست ہو تیرے کلام میں چرچے غنا و فقر عطا کے وبال کے ہو رفعت خیال تیری تا فلک انیسؔ الفاظ اور معانی ہوں جوہر کمال کے
tafkir ko huruf ke saanche mein Dhaal ke