
Anisur Rahman
Anisur Rahman
Anisur Rahman
Ghazalغزل
meri vahshat mujh se puchhegi to batlaaungaa main
میری وحشت مجھ سے پوچھے گی تو بتلاؤں گا میں سوانگ جو تم نے سکھائے وہ بھی دکھلاؤں گا میں کس نے دیوانہ بنایا نام بتلاؤں گا میں دشت و دریا سے بھی آگے بات پھیلاؤں گا میں خواب تم دکھلاؤ گے تو خواب دکھلاؤں گا میں دونوں جانب خواب کے پرچم بھی لہراؤں گا میں نارسائی کا کوئی شکوہ نہیں شکوہ یہ ہے کیا خیال خام ہی سے دل کو بہلاؤں گا میں اے شب فرقت تمہیں مجھ سے شکایت تو نہیں گر چلے جاؤ گے تم بھی کتنا گھبراؤں گا میں اک سموم گرد آسا چل رہی ہے چار سو چار سو بارش لیے تم دیکھنا آؤں گا میں اک اندھیرا چار جانب بارشوں کے درمیاں بارشوں کے درمیاں شعلہ سا لہراؤں گا میں پاؤں ہیں آمادۂ سیر و سفر منزل بہ دست کیا تمہیں لگتا ہے اب بھی لوٹ کر آؤں گا میں راستے مسدود جب ہو جائیں گے ختم سفر آخری پتھر پہ اپنا نام لکھواؤں گا میں رفتگاں آئندگاں کے درمیاں کیا ربط ہے میرؔ صاحب سے یہ پوچھوں گا تو بتلاؤں گا میں
raat kaali nahin to kyaa hogi
رات کالی نہیں تو کیا ہوگی پائمالی نہیں تو کیا ہوگی شعر گویوں کی فطرت سادہ لاابالی نہیں تو کیا ہوگی اس کی زنبیل اور مری زنبیل میری خالی نہیں تو کیا ہوگی لحن اک اور وہ بھی وقت صبح وہ بلالی نہیں تو کیا ہوگی اچھے انسانوں کی طبیعت بھی گر سفالی نہیں تو کیا ہوگی شام کے سائے ہیں زوال پذیر شب زوالی نہیں تو کیا ہوگی ماہ رو ماہ رو سے ملتے ہیں لب پہ لالی نہیں تو کیا ہوگی خواجۂ میر دردؔ کی ہر بات گر مثالی نہیں تو کیا ہوگی
hijr se baat ki visaal ke baa'd
ہجر سے بات کی وصال کے بعد اب کے آنا تو ماہ و سال کے بعد جیسے آیا تھا ماضی حال کے بعد کیا جنوب آئے گا شمال کے بعد بات سے بات چلتی رہتی ہے ختم ہو جاتی ہے مثال کے بعد اک خموشی حصار کی مانند پہلے اور آخری سوال کے باد ایک سیل ملال ہر جانب اک ملال اور اک ملال کے بعد اک خموشی رواں دواں ہر سو کیا خموشی ہے قیل و قال کے بعد اس کی صورت گری میں روز و شب خواب ہم دیکھتے خیال کے بعد دست و بازو میں آسمان و زمیں اور کیا فال نیک فال کے بعد مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے زندگی یہ تو احتمال کے بعد
hamaari baat mein sun dam kaa ramz haigaa kyaa
ہماری بات میں سن دم کا رمز ہے گا کیا کسی بھی پیچ کسی خم کا رمز ہے گا کیا وہ دور اور تھا جب تم نے مجھ سے پوچھا تھا محبتوں میں کہیں غم کا رمز ہے گا کیا یہ آب سادہ یہ آب رواں یہ آب ازل اس آب ناب میں زمزم کا رمز ہے گا کیا فلک پہ ابر بھی انجم بھی ابر باراں بھی مگر زمیں پہ جھما جھم کا رمز ہے گا کیا نہ کوئی تشنہ لبی ہے نہ کوئی سیرابی تو میرے جام ترے جم کا رمز ہے گا کیا اسی کے دم سے بقا ہے اسی کے دم سے فنا فنا بقا میں بتا دم کا رمز ہے گا کیا انیسؔ رقص میں تم ہو کہ رقص ہے تم میں کہ آخرش یہ دمادم کا رمز ہے گا کیا
vahm se yaa gumaan se uThti hai
وہم سے یا گماں سے اٹھتی ہے یا کہیں درمیاں سے اٹھتی ہے وہ تمنا کہ جس پہ جیتے ہیں کیا بتائیں کہاں سے اٹھتی ہے غم کدہ ہے یہ میرؔ صاحب کا ایک تابانی یاں سے اٹھتی ہے کیا سماوات میں تلاطم ہے کیا فغاں جسم و جاں سے اٹھتی ہے موج جب تہ نشین ہوتی ہے لہر آب رواں سے اٹھتی ہے لا مکانی مکاں سے بہتر ہے یہ زمین و زماں سے اٹھتی ہے دیدہ بازی بھی عشق بازی ہے دل کی یہ بات جاں سے اٹھتی ہے جب اٹھائے نہ اٹھ سکے یہ زمیں پھر زمیں آسماں سے اٹھتی ہے اب تو کنج بتاں سے رخصت ہے عاشقی آستاں سے اٹھتی ہے
likh diyaa faisla yak-qalam
لکھ دیا فیصلہ یک قلم کچھ بھی سوچا نہیں محترم چشم نم کے تئیں چشم نم کس کی ہم راز ہے چشم نم گردش دہر کا ذکر تھا ہم بھی شامل ہوئے صبح دم ایک محراب ہے پشت پر سامنے الحرم الحرم دل کا سیپارہ ویران ہے اور ہم رقص میں دم بہ دم حشر تم بھی اٹھاتے رہے ہم لنڈھاتے رہے جام و جم اک سفر اب بھی درپیش ہے اب بھی درپیش ہیں پیچ و خم





