
Anjali Banga
Anjali Banga
Anjali Banga
Ghazalغزل
بہانوں سے جو چل جاتی محبت نہ ہوتی آپ سے تب بھی محبت مجھے دل دینے والو جان تو لو مجھے کرنی نہیں آتی محبت ابھی تم سے ملے کچھ دن ہوئے ہیں ابھی سے ہو گئی اتنی محبت مجھے کیوں بے تحاشہ ہو نہ محسوس ملے تم سے جو تھوڑی بھی محبت دعا کرنا کہ مجھ کو زندگی میں میسر آئے اس کی بھی محبت
bahaanon se jo chal jaati mohabbat
چاہے کتنا بھی تھک گیا ہوگا عشق کو ساتھ دوڑنا ہوگا ہم نے سوچا تھا کیا کریں گے ہم ہم نے سوچا نہیں تھا کیا ہوگا ایک مجھ سے نہ بات کرنے کو ساری دنیا سے بولتا ہوگا آدمی بات کاٹ دیتے ہیں میرے کچھ بولنے سے کیا ہوگا
chaahe kitnaa bhi thak gayaa hogaa
فریب محبت بھی منظور ہے کریں کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے ٹھہر خودکشی کا یہ موسم نہیں ابھی تیرے چہرے پہ کچھ نور ہے لگا ہی نہیں تھا بہانہ ہے یہ جو تم نے کہا گھر ذرا دور ہے یہاں پر ارمؔ دل دکھاتی پھرے وہاں عاشقوں میں وہ مشہور ہے شکن دی ہو تو نے یا سندور ہو ہو جو بھی جبیں پر وہ منظور ہے خواتین آؤ چلیں جنگ میں جگر تو ہمارا بھی بھرپور ہے تقی میرؔ لہجے میں ڈھلتا نہیں سخنور کی دلی ابھی دور ہے
fareb-e-mohabbat bhi manzur hai
گر چکا ہو جب کوئی کردار سے کیا گرے گا وہ کسی معیار سے وہ حفاظت کر رہا ہے پیار کی بچ رہے ہیں ہم بھی چوکی دار سے ایک تو تم عشق میں ناکام ہو شعر بھی کہتی ہو پھر بیکار سے غیر کو دلوا دئے جھمکے ارمؔ ہم کو نفرت ہو گئی شرنگار سے
gir chukaa ho jab koi kirdaar se
پھولوں کو برساؤ تم بھی تارے وارے لاؤ تم بھی چلتے چلتے فلموں جیسے مجھ میں آ ٹکراؤ تم بھی میں بھی نیندیں لمبی لوں گی گر خوابوں میں آؤ تم بھی مجھ کو کھونا کیسا ہوگا تھوڑا تو گھبراؤ تم بھی کب سے اک طرفہ رکھا ہے اب میرے کہلاؤ تم بھی
phulon ko barsaao tum bhi
دور رہتے ہوئے میں نے جانا اسے جب وہ میرا ہی ہے کیوں جتانا اسے ہر نئی شے جو کھینچے ہے اپنی طرف کھینچ لایا ہے ربط ایک پرانا اسے جو دعاؤں سے پایا تھا سب چھن گیا میرے بس میں کہاں مانگ پانا اسے اور سب یاد رہتا ہے مجھ کو مگر یاد رہتا نہیں بھول جانا اسے
duur rahte hue main ne jaanaa use





