SHAWORDS
Anju Keshaw

Anju Keshaw

Anju Keshaw

Anju Keshaw

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چاند تک اپنی نظر کا ہر سفر اچھا لگا یوں فلک کا خواب اپنی آنکھ پر اچھا لگا ہے بہت دشواریاں بے انتہا ہیں امتحاں باوجود اس کے بھی جیون کا سفر اچھا لگا جو ملی ان سے نظر کہ لٹ گیا میرا سکون اور ہمیں نقصان کا ہاں یہ بھی در اچھا لگا ہوشیاری ہے نہیں کردار میں اس شخص کے وہ ہمیں چالاکیوں سے بے خبر اچھا لگا تھا پتہ یہ بے نیازی لائے گی ان کو قریب دیکھ کر تجویز ہوتی کارگر اچھا لگا حوصلہ کم تھا مگر تھا آسماں جب سامنے کھول دینا مجھ کو اپنے آج پر اچھا لگا

chaand tak apni nazar kaa har safar achchhaa lagaa

غزل · Ghazal

خزاں میں بھی مایوس کب یہ شجر ہے بھروسہ اسے اپنی ہر شاخ پر ہے رکھے بیچ لاشوں کے بھی خود کو زندہ انوکھا یہ اک زندگی کا ہنر ہے جو ہیں سوچتے ڈوب جاتا ہے سورج بتا دوں بہت تنگ ان کی نظر ہے پہنچنا ہے اس پار لڑ کر اسی سے چہیتی سمندر کی جو یہ لہر ہے دکھانا نہ ہر ایک جلوہ ابھی سے کہ اس جشن کا دور تو رات بھر ہے تجارت میں پتھر کی مت بھولنا یہ تمہارا خود اپنا بھی شیشے کا گھر ہے اجالے تو ہیں پر ہے تجھ میں تپش بھی بتا کیا تو جلتی ہوئی دوپہر ہے

khizaan mein bhi maayus kab ye shajar hai

غزل · Ghazal

صبر کا پاس جو میرے نہ وظیفہ ہوتا زندگی گھر میں تمہارے نہ ٹھکانا ہوتا کاش وہ کرتا کبھی اس میں وجود اپنا گم کاش اک روز سمندر بھی تو دریا ہوتا وقت پہ آنکھ اگر ہم نے نہ پونچھی ہوتی یہ وجود اشک کے ساتھ آنکھ سے بہتا ہوتا ہم روایت کی روانی میں یوں ہی بہہ جاتے بیج خودداری کا دل میں جو نہ روپا ہوتا جب مقابل ہوئے دنیا کے تو جینا آیا لوگ چپ چاپ دیں جینے نہیں ایسا ہوتا سوکھ جاتا یہ شجر من کا اگر شاخوں پہ کوئی امید کا پنچھی نہیں بیٹھا ہوتا ہم سمجھتے نہ اگر ہونے کا مطلب اپنے ساتھ اپنے ہی یہ اک طرح کا دھوکا ہوتا

sabr kaa paas jo mere na vazifa hotaa

غزل · Ghazal

روشنی اپنی طرف جب بھی بلاتی ہے ہمیں تیرگی ٹھیک تبھی آنکھ دکھاتی ہے ہمیں روز کوشش ہے یہی زندہ رہیں ہم لیکن زندگی روز نیا زہر پلاتی ہے ہمیں کل کے ہر ایک اجالے پہ تمہارا حق ہے رات ہر رات یہی گا کے سلاتی ہے ہمیں

raushni apni taraf jab bhi bulaati hai hamein

غزل · Ghazal

چار پل بھی جو گزر جاتے ہیں من مانی کے ساتھ عمر ساری پھر تو کٹ جاتی ہے آسانی کے ساتھ ذہنیت میں پھنس گئی تو ہوگی بوجھل زندگی ہے مزہ اس کا بھی اصلی صرف نادانی کے ساتھ کوششیں کرنا ہمارا ہے عمل کرتے بھی ہیں پر مٹی ہے کب لکھی تحریر پیشانی کے ساتھ دوستی یا دشمنی بھی ہو پرکھ کر آدمی کیجئے تلوار بازی مت کبھی پانی کے ساتھ رونقیں اور روشنی تو شہر کے ہیں چونچلے جنگلوں کی ہے گزر جاتی بیابانی کے ساتھ خیر مقدم ہم دکھوں کا بھی کیا کرتے اناؔ ہم نہ وہ جو زندگی ڈھوئی پریشانی کے ساتھ

chaar pal bhi jo guzar jaate hain man-maani ke saath

Similar Poets