Anjum Abbasi
Anjum Abbasi
Anjum Abbasi
Ghazalغزل
teri nigaah-e-naaz baDi kaargar gai
تیری نگاہ ناز بڑی کارگر گئی میرے مذاق دید کو بیکار کر گئی ہوگا ضرور پاس وفا ان کو ایک دن بس اس خیال میں ہی جوانی گزر گئی اپنے شکستہ حال کا ممکن نہ تھا علاج تم نے نظر ملائی تو دنیا سنور گئی یوں کٹ گئی خیال میں ان کے شب فراق یہ بھی خبر بنیں کدھر آئی کدھر گئی دیکھے تو کوئی جذب محبت کا یہ اثر ہر پھر کے میرے دل پہ ہی ان کی نظر گئی معمور ہے نگاہ میں اب ساری کائنات تنویر کس کے حسن کی ہر سو نکھر گئی دو گام بھی چلے نہیں تم راہ عشق میں سختیٔ راہ تم کو تو بیزار کر گئی انجمؔ کسی کی چشم کرم کا یہ فیض ہے طوفان میں بھی گھر کے جو کشتی ابھر گئی
roz akhbaar mein chhap jaane se miltaa kyaa hai
روز اخبار میں چھپ جانے سے ملتا کیا ہے اپنی تشہیر کے افسانے میں رکھا کیا ہے تم نے جس کو غم ایام کہا ہے یارو وہ مرے درد کا حصہ ہے تمہارا کیا ہے جھن جھنے دے کے مرے ہاتھ میں کوئی مجھ کو قید ہستی کی سزا دے یہ تماشا کیا ہے کل تلک جو مری تعریف کیا کرتا تھا آج وہ بھی مرا دشمن ہے یہ قصہ کیا ہے ہم اگر ڈوب بھی جائیں تو ابھر سکتے ہیں ہم کو معلوم ہے جینے کا سلیقہ کیا ہے ہم نے سوغات سمجھ کر تو اسے اپنایا اب یہ کیوں سوچیں کہ اس غم کا مداوا کیا ہے یوں تو سب لوگ تمہیں جانتے ہوں گے انجمؔ اور کوئی بھی نہ جانے تو بگڑتا کیا ہے
zakhm mahke hain gul-rukhon ki tarah
زخم مہکے ہیں گل رخوں کی طرح ہم بھی زندہ ہیں حسرتوں کی طرح تم کو خوشبو بنا کے چھوڑیں گے ہم میں بو باس ہے گلوں کی طرح کتنے چہرے لگائے پھرتے ہیں آج انسان راونوں کی طرح روز آب حیات پیتا ہوں روز مرتا ہوں میں گلوں کی طرح جس کو پالا وہی تو ذہن ہم کو ڈستا رہتا ہے ناگنوں کی طرح تپتا رہتا ہوں ریت کے مانند کوئی برسے تو بادلوں کی طرح اب کہاں جائیں کس طرح جائیں درد پھیلا ہے راستوں کی طرح اس گرانی کے دور میں انجمؔ اپنے سینے ہیں مقبروں کی طرح
mausam-e-gul hai naqaab-e-husn uTh jaane kaa naam
موسم گل ہے نقاب حسن اٹھ جانے کا نام ہے نشاط جان و دل اس دور کے آنے کا نام تنگ ذہنوں میں ہے ماتم گردش ایام کا محفل ہستی کو دے رکھا ہے غم خانے کا نام جب کبھی چھڑتا ہے ذکر رسم و راہ عاشقی لوگ لیتے ہیں ادب سے تیرے دیوانے کا نام ان کی یاد ان کا تصور ان کا غم ان کی خوشی زندگی ہے میری بس ان میں ہی کھو جانے کا نام میں اگر ناکام ہوں ناکام رہنے دیجئے کیا پڑی ہے آپ کو لیں رحم فرمانے کا نام ہر برائی مصلحت کے نام سے ہے اب ردا دے چکے ہیں لوگ مقتل کو صنم خانے کا نام اس محبت میں ہیں انجمؔ سینکڑوں دشواریاں سوچ کر لینے کسی ظالم کو اپنانے کا نام
zamaane bhar kaa jo fitna rahaa thaa
زمانے بھر کا جو فتنہ رہا تھا وہی تو گاؤں کا مکھیا بنا تھا مری شہرت کے پرچم اڑ رہ تھے مگر میں دھوپ میں تنہا کھڑا تھا ہزاروں راز تھے پوشیدہ مجھ میں میں اپنے آپ سے چھپ کر کھڑا تھا بہت سے لوگ اس کو دیکھتے تھے وہ اونچے پیڑ پر بیٹھا ہوا تھا پرانا تھا مداری کا تماشا مگر وہ بھیڑ تھی رستا اڑا تھا فسادی تھے مرے ہی گھر میں انجمؔ میں ان کو شہر بھر میں ڈھونڈھتا تھا
sukun-o-sabr luTaa hosh kaa khazaana gayaa
سکون و صبر لٹا ہوش کا خزانہ گیا تمہیں بتاؤ خدارا کہ میرا کیا نہ گیا گرائی برق نظر سوز بارہا لیکن مذاق دید ہمارا شکست کھا نہ گیا خدا کی ذات پہ انساں نے کر دئے حملے فریب عقل سے جب آپ میں رہا نہ گیا ہمارے ذوق نظر نے تو خوب کام کیا چھپے ہزار طرح وہ مگر چھپا نہ گیا تمام عمر جلایا چراغ دل میں نے شب سیاہ کا لیکن یہ سلسلہ نہ گیا خلوص دل میں ہی انجمؔ کمی رہی ہوگی کہ وہ قریب رہے پھر بھی فاصلہ نہ گیا





