Anjum Qamar Soz
vaqt-e-aakhir jo taDap hoti hai parvaanon ki
وقت آخر جو تڑپ ہوتی ہے پروانوں کی بس وہی آج ہے حالت مرے ارمانوں کی کھل گئی پھر کسی مجنون کی زنجیر حیات قہقہہ سا اٹھا اک بزم میں دیوانوں کی روٹھ کے ملک عدم کون یہ مے خوار چلا زیست سکتہ میں کھڑی رہ گئی مے خانوں کی درد سے چیختی ہیں زخمی تمنائیں مری خامشی کانپتی ہے ضبط کے ویرانوں میں یا خدا دل کے سفینے کی حفاظت کرنا آج شدت پہ ہے دیوانگی طوفانوں کی اس بھری دنیا میں یوں زیست مری لگتی ہے جیسے آ پہنچے کوئی بزم میں بیگانوں کی