Anjum Rizwani
vo shakhs yuun nigaah mein nigaah Daal kar gayaa
وہ شخص یوں نگاہ میں نگاہ ڈال کر گیا بجھی بجھی سی زندگی مری بحال کر گیا وہ سادہ لوح تھا مگر غضب کی چال کر گیا نہیں جواب جس کا مجھ سے وہ سوال کر گیا مجھے تو اپنی جستجو اس آستاں پہ لے گئی وہ دشمن وفا نہ جانے کیا خیال کر گیا آ گیا تو ظلمت غم فراق چھٹ گئی جو مہر و مہ نہ کر سکے ترا جمال کر گیا شکن شکن جبیں نہ کر اگر امید خیر پر فقیر تیرے در پہ آ گیا سوال کر گیا قدم قدم پہ بت کدہ رہ حرم میں تھے مگر مرا بچاؤ ذکر رب ذوالجلال کر گیا