
Anjum Saharanpuri
Anjum Saharanpuri
Anjum Saharanpuri
Ghazalغزل
masihaa ki nazar maayus bimaaron se uljhi hai
مسیحا کی نظر مایوس بیماروں سے الجھی ہے قیامت کن شکستہ حال دیواروں سے الجھی ہے تری دنیا کا یا رب کیا بگاڑا ہے غریبوں نے تری دنیا بھی ہم تقدیر کے ماروں سے الجھی ہے ہماری زندگی کیا ہے جہان رنج و راحت ہے کبھی پھولوں سے لپٹی ہے کبھی خاروں سے الجھی ہے یہ شاید آخری اک مرحلہ ہے آزمائش کا محبت آج اپنے ناز برداروں سے الجھی ہے نہ ذوق دید ہے باقی نہ عنوان طلب انجمؔ نظر کس بیکسی میں شوخ نظاروں سے الجھی ہے
inqalaab aa gayaa dekhiye
انقلاب آ گیا دیکھیے بن گئے بت خدا دیکھیے غم کے ماروں سے کیا واسطہ آپ بس آئنہ دیکھیے میں نے کھائے ہمیشہ فریب میرا ذوق وفا دیکھیے آپ کی لاج رکھے خدا آپ ہیں ناخدا دیکھیے ہم سے سب بد ظن و بد گماں ان کے سب ہم نوا دیکھیے دل تو حاضر ہے لیکن حضور آپ ہیں خود نما دیکھیے شیخ جی ہے یہ شہر بتاں پہلے آب و ہوا دیکھیے ان کی نظریں ہیں بدلی ہوئیں کیا دکھائے خدا دیکھیے ظلم انجمؔ وہ کرتے رہے میں بھی ہنستا رہا دیکھیے
bahaaron ke rangin zamaane hain ham se
بہاروں کے رنگیں زمانے ہیں ہم سے محبت کے سارے فسانے ہیں ہم سے ہمارے بھی دم سے بڑی رونقیں ہیں سلامت ترے بادہ خانے ہیں ہم سے جبین عقیدت کہاں خم نہیں ہے تمہارے تمام آستانے ہیں ہم سے ہماری تباہی پہ روئیں گے اک دن انہیں بھی بڑے زخم کھانے ہیں ہم سے بڑی سخت ہے زندگی کی وفا بھی مرتب انوکھے فسانے ہیں ہم سے جوانی سے صدمے اٹھائیں گے ہم بھی جوانی کو صدمے اٹھانے ہیں ہم سے بہاروں کی نبضیں ہیں ممنون انجمؔ چمن ہم سے ہیں آشیانے ہیں ہم سے
chaman mein rah ke bhi dil ko agar qaraar nahin
چمن میں رہ کے بھی دل کو اگر قرار نہیں تو یہ بہار کی توہین ہے بہار نہیں تمہارا حسن جو پھولوں سے آشکار نہیں مری نگاہ بھی شرمندۂ بہار نہیں حضور آپ کے وعدوں کا کیا یقیں آئے یہاں تو زیست پہ بھی اپنی اعتبار نہیں ہے زندگی مری اک حادثہ جہاں کے لئے مری تباہی پہ کون آج اشک بار نہیں وہ آنکھ کیا کہ محبت میں خوں بہا نہ سکے وہ دل ہی کیا ہے جو زخموں سے لالہ زار نہیں کوئی ہزار سراپا خلوص بن جائے ہمیں کسی کا بھی انجمؔ اب اعتبار نہیں
fareb de ke nazaaron ne saath chhoD diyaa
فریب دے کے نظاروں نے ساتھ چھوڑ دیا مرے جنوں کا بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا تمہیں کو اب دل مضطر کی لاج رکھنا ہے چلے بھی آؤ ستاروں نے ساتھ چھوڑ دیا نصیب والوں کو دنیا میں کون پوچھے گا اگر نصیب کے ماروں نے ساتھ چھوڑ دیا کہیں تو میں نے سہاروں پہ مار دی ٹھوکر کہیں پہ میرا سہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا گلہ نہیں ہے تلاطم کی بد سلوکی کا مرا ہمیشہ کناروں نے ساتھ چھوڑ دیا ابھی تو گردش دوراں بھی دور تھی مجھ سے ذرا سی بات پہ یاروں نے ساتھ چھوڑ دیا تمہارے دم سے تھا وابستۂ چمن انجمؔ تمہارے بعد بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا
junun jab muskuraataa hai khirad ki gul-fishaani par
جنوں جب مسکراتا ہے خرد کی گل فشانی پر وہ عالم اک قیامت ہے ارادوں کی جوانی پر ہنسی آتی رہی پھولوں کو میری بے زبانی پر رہا مغموم میں جتنا مآل شادمانی پر اگر واعظ تجھے اپنا تقدس سونپ سکتا ہے میں کر دوں میکدے قربان تیری نوجوانی پر ردائے کیف و مستی اوڑھ لیں ساقی یہ میخانے وہ بکھرا دیں جو زلفوں کو شراب ارغوانی پر ہنسی اڑتی ہے غنچوں کے بڑے دل کش تبسم کی وہاں تنقید ہو جاتی ہے کلیوں کی جوانی پر یہ کس نے روئے زیبا سے نقاب الٹا گلستاں میں بہاروں کی طبیعت آ گئی انجمؔ روانی پر





