
Ankush Hamdard
Ankush Hamdard
Ankush Hamdard
Ghazalغزل
آج بڑھتی جا رہی ہیں اس جہاں میں ذلتیں مٹ رہی ہیں رفتہ رفتہ پیار والی فطرتیں روٹیوں کے واسطے اب در بہ در ہے آدمی بک رہی ہیں کوڑیوں میں آج کل یہ عزتیں پس رہی ہے عام جنتا کرسیوں کی جنگ میں بانٹتی ہے نفرتوں کی یہ سیاست رشوتیں پاس کوئی بیٹھ کر اب دو سخن کہتا نہیں چھن گئی مصروفیت میں روح کی سب فرصتیں خاک کا پتلا ہے انساں خاک میں مل جائے گا بھول بیٹھا ہے مسافر چند دن کی مہلتیں بادشاہوں کے محل اب ڈھ کے مٹی ہو گئے کیا ہوئیں وہ طاقتیں اور کیا ہوئیں وہ حکمتیں بیج نفرت کے جو بوئے گا وہ کاٹے گا وہی وقت دیتا ہے ہمیشہ ہی برابر اجرتیں
aaj baDhti jaa rahi hain is jahaan mein zillatein
1 views
ادھوری رہ گئی جو داستاں اس کو بھلا دینا مرا نام و نشاں اب تم ہواؤں میں اڑا دینا بلاوا آ گیا ہے اب مجھے اس پار جانے کا مری مٹی کو مٹی کی امانت میں ملا دینا مسافر اب سفر کی آخری سرحد پہ بیٹھا ہے چراغ زندگی بجھنے کو ہے اب بس دعا دینا
adhuri rah gai jo daastaan us ko bhulaa denaa
1 views





