Ankush Tiwari
اندھیرے کے آغوش میں وہ چھپا ہے اجالا سمے کا مہک تو رہا ہے جو تکیہ ہو بھیگی سمجھ لو اشارے بلکتے بلکتے کوئی سو گیا ہے تباہی کے عالم میں ہنستا ستارا کئی مشکلوں سے چہک کر ملا ہے مقدس ہو سیرت بھلے چاہے جتنی فریبی سی صورت کو سب کچھ روا ہے نہ دامن پسارا نہ سر تھا جھکایا نہ شکوہ کسی سے نہ کوئی گلہ ہے سہی بات کہتے ہمیشہ ہیں ڈرتے یہ سچ کا سفینہ افق سے گرا ہے نہیں چاہیئے روشنی اب فلک کی چراغوں سا من سب طرف سے کھلا ہے لگے ساتھ بھاری کھلے آسماں میں قفس سے نکل بندشوں سے گھرا ہے کیوں لپٹا وہ چادر میں بے فکر ہو کر گناہوں کا کھاتا ادھورا پڑا ہے شجر روٹھا رہتا ہے ہر وقت دیکھو نہیں کوئی عرصے سے آ کر رکا ہے سبھی سے ہے رشتہ کوئی بے زباں سا خرابہ مکاں جیسا لگنے لگا ہے مقدر کے چابک سے پوچھو ذرا اب چمن سے ہوا کیا ابھی بھی جدا ہے مسلسل ہے ہوتی یہاں پر جو بارش تو پھر کیوں مرا کوچہ سوکھا پڑا ہے یہ جھوٹوں کی ہستی گھلی ہے فضا میں حقیقت پہ دیکھو کیوں پردا پڑا ہے
andhere ke aaghosh mein vo chhupaa hai
1 views