SHAWORDS
A

Anmol Savaran Katib

Anmol Savaran Katib

Anmol Savaran Katib

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

میں کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہوں محبت کرکے تنہا ہو گیا ہوں مسلسل چشم تر رہتی ہے میری میں یادوں کا خزانہ ہو گیا ہوں میری ان چشم میں دیکھو ذرا سا تری منزل کا رستہ ہو گیا ہوں مجھے تو سننے دے جھوٹی تسلی بہا کے آنسو دریا ہو گیا ہوں یہ دریا میٹھے پانی کا نہیں ہے میں درد و غم سے کھارا ہو گیا ہوں میرے زخموں پہ مرہم مت لگاؤ میں زخموں کا سہارا ہو گیا ہوں شبوں میں چیختا رہتا ہے کاتبؔ تیرے جانے سے صحرا ہو گیا ہوں

main kyaa thaa aur ab kyaa ho gayaa huun

غزل · Ghazal

بیمار ہیں گو عشق میں تو کیا کرے کوئی دل کے مریض کو یوں نہ کوسا کرے کوئی زر کو جہاں میں لے کے چکاتے ہیں جیسے سب احسان کو بھی ایسے چکایا کرے کوئی دولت ضروری جیسے سمجھتے ہیں سب یہاں رشتے ضروری ویسے ہی سمجھا کرے کوئی دنیا میں غم کے بوجھ تلے دب گیا ہوں میں جینے کی ایک وجہ بتایا کرے کوئی منزل تلاشنے میں یہ جیون گزر رہا ہمت یہاں پہ میری بڑھایا کرے کوئی ناکامیوں کی تیرگی میں کھو گیا ہوں میں اب روشنی سفر میں دکھایا کرے کوئی گر مل گئے خدا تو کروں ان سے ارض میں غم اور درد سے نہ ستایا کرے کوئی اخلاص میں بدن کی جگہ روح کو ملا لب کی جگہ جبیں پہ تو بوسا کرے کوئی اس ہجر میں طلب میری پہلے سے بڑھ گئی اب وصل کے فسانے سنایا کرے کوئی اک عرصے سے ہنسا نہیں غم کے سبب سے میں دیر و حرم میں اس کو بتایا کرے کوئی والد خفا ہیں نوکری میں کر نہیں رہا اپنے سخن کو کیسے خسارہ کرے کوئی ہر کوئی بھاگتا ہے گہر کی تلاش میں کاتبؔ کے جیسے نام کمایا کرے کوئی

bimaar hain go ishq mein to kyaa kare koi

غزل · Ghazal

جو چہرہ اوروں کی خاطر خبر میں رہتا ہے مرے لیے وہی چہرہ جگر میں رہتا ہے ٹھہر گیا میں تو اس حسن کی گلی میں اب سبب تو ہر گھڑی میری نظر میں رہتا ہے جسے بھی دیکھو کہے چاند ہے میرا محبوب جہاں میں کیا ہے جو کوئی قمر میں رہتا ہے عجیب شہر ہے تیرا کسی کی سنتا نہیں یہاں پہ جھوٹ کا قصہ سفر میں رہتا ہے پناہ دل میں ہے لے لی سبھی کے کاتبؔ نے کلام اس کا سبھی کے جگر میں رہتا ہے

jo chehra auron ki khaatir khabar mein rahtaa hai

غزل · Ghazal

جام لب پینے کی حسرت اب تو میرے دل میں ہے پر مرا ساقی تو یاروں غیر کی محفل میں ہے قتل کر دے جو نظر سے وو ہنر سب میں کہاں یہ ہنر تو بس پری وش دل نشیں قاتل میں ہے ہے نزاکت ہے نظافت ہر ادا میں اس کے تو اس لئے ہی اب تلک زندہ وہ میرے دل میں ہے عشق کی دریا میں غوطے کھا رہا ہوں میں تو اب وہ لہر ہے اب تو منزل میری یاں ساحل میں ہے ہو گیا ہوں میں پریشاں دل کہیں لگتا نہیں عشق کرنے کی خطا سے دل میرا مشکل میں ہے جو خوشی اپنی لٹا دے غیر کے ہی واسطے اس جہاں میں اس طرح کی آرزو عادل میں ہے کون تیرا ہے یہاں پہ یہ ذرا معلوم کر رنگ میں چہرے سنے ہیں راز مستقبل میں ہے تھک گیا ہوں زندگی کے اس سفر میں میں تو اب موت مل جائے سفر میں بس یہی منزل میں ہے سن لیے جو شعر کاتبؔ کے بنا اک داد کے یہ گواہی دے رہا تو محفل جاہل میں ہے

jaam-e-lab piine ki hasrat ab to mere dil mein hai

غزل · Ghazal

ملک کو آخر مرے اب یہ ہوا کیا ہے خدا ہو رہے دنگے فسادوں کی دوا کیا ہے خدا رہنما ہی ملک کے دشمن بنے بیٹھے ہوں پھر ملک میں بہتے ہوئے خوں کی سزا کیا ہے خدا مذہبی مطلب نے ڈھیروں نام میں بانٹا تجھے تو تو قاضی ہے بتا اس کی سزا کیا ہے خدا کہتے ہیں سب ساری دنیا کو بنایا تم نے تو گاڈ اللہ اور بھگون یہ بتا کیا ہے خدا مندروں یا مسجدوں میں تو بتا جاؤں کہاں در پہ تیرے جانے کا اک راستہ کیا ہے خدا تو مداری ہے جہاں کا اور سب کٹھ پتلیاں تو فسادوں کی وجہ اس میں گلہ کیا ہے خدا سب کہے کاتبؔ تو کافر ہے پہ وہ خوش ہے بہت رحم دل ہے وہ بتا اس میں خطا کیا ہے خدا

mulk ko aakhir mire ab ye huaa kyaa hai khudaa

غزل · Ghazal

آنکھوں میں تری چاہت کا ایسا نشہ دیکھا میخانے میں جیسے میں نے جام بھرا دیکھا وہ لب تھے ترے یا وہ تھے مے سے بھرے پیالے پیتے ہی اسے ساری دنیا کا نشہ دیکھا چہرے پہ ترے بکھری زلفوں کی گھٹا ایسی ساون میں قمر کے اوپر ابر گھرا دیکھا اوروں کے لیے جو بھی ہو عشق کی تقدیریں پر میں نے تو اس کے ذریعہ اپنا خدا دیکھا اک خواب جو ہم دونوں نے ساتھ میں دیکھا تھا جب آنکھ کھلی تو میں نے خود کو جدا دیکھا اس ہجر میں تنہائی سے وصل کیا میں نے اس میں کوئی میں نے درد و غم کا مزہ دیکھا یہ زخم پرانے ہیں لیکن یہ بھرے کیسے اپنوں کے سبب سے ہر پل زخم ہرا دیکھا موت ایک تماشا ہے کردار بنیں گے سب دنیا میں خدا کا بس یہ ایک وفا دیکھا تفتیش میں کاتبؔ نے یہ زیست گزاری پر ہر ایک قدم پر خود کا شوق نیا دیکھا

aankhon mein tiri chaahat kaa aisaa nasha dekhaa

Similar Poets