SHAWORDS
Ansh Pratap Singh Ghafil

Ansh Pratap Singh Ghafil

Ansh Pratap Singh Ghafil

Ansh Pratap Singh Ghafil

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

tiri yaadon se gar ubar jaaein

تری یادوں سے گر اوبر جائیں عین ممکن ہے پھر کہ مر جائیں یا خدا راستا نہ منزل ہے کچھ تو بتلا دے ہم کدھر جائیں توڑ کر بندشیں رواجوں کی اب چلو حد سے ہم گزر جائیں رات آوارگی کی سڑکوں پر ہو گئی صبح اب تو گھر جائیں عشق والو دو مشورہ مجھ کو غم کے مارے ہوئے کدھر جائیں جسم پھر بیچ میں نہ آئے گا ہم اگر روح میں اتر جائیں تشنگی ہے مگر سنو جانا پیاس اتنی نہیں کہ مر جائیں درد اتنا ہے میری آنکھوں میں آئنیں ٹوٹ کر بکھر جائیں

غزل · Ghazal

hamaare haath mein bachchon ne titliyaan rakh diin

ہمارے ہاتھ میں بچوں نے تتلیاں رکھ دیں تو اپنے ہاتھ کی ہم نے بھی برچھیاں رکھ دیں ہوا تھا ذکر اچانک ہی موت کا مجھ سے تڑپ کے اس نے میرے لب پہ انگلیاں رکھ دیں رہا کیا ہے پرندے کو اس طریقے سے پروں کو کھول کے پیروں میں بیڑیاں رکھ دیں تم اس غریب کی جھولی میں رزق بھی رکھنا کہ جس غریب کی گودی میں بیٹیاں رکھ دیں حدوں کو توڑ گیا یوں غریب بنجارہ کہ شاہزادی کے ہاتھوں میں چوڑیاں رکھ دیں جب ان کے راہ کے کانٹے ہٹا نہیں پائے تو ان کے پاؤں کے نیچے ہتھیلیاں رکھ دیں میری دعا ہے سلامت رہے قیامت تک وہ عشق جس نے لبوں پر یہ سسکیاں رکھ دیں

غزل · Ghazal

ishq dil mein agar nahin hotaa

عشق دل میں اگر نہیں ہوتا تیری چوکھٹ پہ سر نہیں ہوتا تیرا ہونا حیات میں میری ہو بھی سکتا ہے پر نہیں ہوتا تیری یادوں کے ساتھ چلتا ہوں یہ سفر کیا سفر نہیں ہوتا ریت کا گھر بنا تو لیں لیکن ریت ہوتی ہے گھر نہیں ہوتا ہم زباں ہے وہ ہم خیال بھی ہے جانے کیوں ہم سفر نہیں ہوتا ایک مدت گزار بیٹھے ہیں ایک لمحہ بسر نہیں ہوتا ہم تو غافلؔ ہیں دین و دنیا سے ہم فقیروں کا گھر نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

maanaa ki zindagi mein kuchh achchhaa nahin kiyaa

مانا کہ زندگی میں کچھ اچھا نہیں کیا لیکن ضمیر کا کبھی سودا نہیں کیا رسوا ہوئے ہیں خود اسے رسوا نہیں کیا چپ چاپ کھائے زخم تماشہ نہیں کیا سجدے میں جب جھکایا تو دل سے جھکایا سر ہم نے وفا کی راہ میں دھوکا نہیں کیا شاید تراش کر مجھے مورت بنائے وہ پتھر سے خود کو اس لئے شیشہ نہیں کیا توڑے ہیں جام تارے گنے بدلی کروٹیں آ دیکھ تیری یاد میں کیا کیا نہیں کیا ڈستے ہیں سارے خواب جو بچپن میں دیکھے تھے غافلؔ جوانی میں جنہیں پورا نہیں کیا

غزل · Ghazal

ab dil ko tum se koi bhi shikva nahin rahaa

اب دل کو تم سے کوئی بھی شکوہ نہیں رہا یعنی ہمارے بیچ کا رشتہ نہیں رہا بچپن گزارتے ہیں مشقت کے ساتھ وہ جن کے سروں پہ باپ کا سایا نہیں رہا جب تک نہ ان کی دید ہو کیسے غزل کہوں میرے خیال میں کوئی مصرع نہیں رہا صیاد تیرے ظلم کی اب انتہا ہوئی خالی قفس بچا ہے پرندہ نہیں رہا آواز دے رہا ہے مجھے بار بار کیوں اس کو خبر کرو کہ میں زندہ نہیں رہا خلوت میں میرے ساتھ ہی رہتا ہے تو صنم تیرے بغیر میں کہیں تنہا نہیں رہا الفت میں اپنے یار کی غافلؔ ہوں اس قدر میرا اب اس جہان سے رشتہ نہیں رہا

Similar Poets