SHAWORDS
Anshul Nabh

Anshul Nabh

Anshul Nabh

Anshul Nabh

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ڈوب کر آ رہا ہوں بھیتر سے ایک موتی ملا سمندر سے چین کی سانس لے سکوں گا اب دشمنی ہو گئی مقدر سے ایک آنسو کا بوجھ بھاری ہے بوند سے دریا سے سمندر سے بے سبب خوب مسکراتا ہے تو بھی ٹوٹا ہوا ہے اندر سے دیکھنے میں ستارے لگتے ہو آپ دھرتی سے ہیں یا امبر سے حق ادائی میں ہیں لگے دونوں درد اندر سے زخم باہر سے آئنے تو یہاں سلامت ہیں پھول زخمی ہوئے ہیں پتھر سے

Duub kar aa rahaa huun bhitar se

1 views

غزل · Ghazal

مجھے معلوم ہے بستی میں غربت کم نہیں ہوتی دلوں میں پھر بھی لوگوں کے محبت کم نہیں ہوتی میری فن کاری میری عمر سے پہچاننے والوں کسی ماچس کی اک تیلی میں طاقت کم نہیں ہوتی ککرمتوں کے بیچوں بیچ کھلتا گل بھی کہتا ہے کسی مفلس کو اپنانے سے عزت کم نہیں ہوتی اجالا سوریہ کا محلوں میں بھی ہے جھونپڑی میں بھی ہو کوئی آدمی مالک کی رحمت کم نہیں ہوتی تمہارے کانچ کے محلوں کی عظمت چاہے کچھ بھی ہو جہاں میں پتھروں کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی تمہارے پیار میں غزلیں ہزاروں کہہ گیا ورنہ فقط اک شعر کہنے میں مشقت کم نہیں ہوتی

mujhe maalum hai basti mein ghurbat kam nahin hoti

1 views

غزل · Ghazal

عشق میں الجھی پہیلی اور تم میں تمہاری اک سہیلی اور تم آج کل دو لوگ میرے پاس ہیں زندگی میری اکیلی اور تم مجھ کو دیتی ہیں سکوں بے امتحاں اک تری نازک ہتھیلی اور تم درد میں میرے صدا شامل رہے آنسوؤں کی ایک ڈھیلی اور تم

ishq mein uljhi paheli aur tum

غزل · Ghazal

رب رٹا تا عمر لیکن رب سمجھ پائے نہیں عشق کر کے عشق کا مطلب سمجھ پائے نہیں آپ کو پتھر کی مورت میں فقط پتھر دکھا آپ سب کچھ جان کر بھی سب سمجھ پائے نہیں زندگی نے عشق کی باریکیاں سمجھائی پر جب سمجھنا تھا ہمیں ہم تب سمجھ پائے نہیں کس لیے آنکھوں نے پہنا آنسوؤں کا پیرہن یہ حقیقت مسکراتے لب سمجھ پائے نہیں ہر پرائی شے کو اپنا مان کر جیتے رہے اور اپنے آپ کو ہم سب سمجھ پائے نہیں

rab raTaa taa-umr lekin rab samajh paae nahin

غزل · Ghazal

ہمارے پاس بھی دل ہے یہ اکثر بولتے ہیں محبت کر کے پھولوں سے یہ پتھر بولتے ہیں کسی کے ہونٹھ پر ہنستی ہیں پھولوں کی دوائیں کسی کی آنکھ میں چھپ کر سمندر بولتے ہیں کبھی جس میں شہنشاہوں حضوروں نے حکومت کی انہی محلوں کو سارے لوگ کھنڈر بولتے ہیں وہاں پر چور ہو جاتے ہے سب سپنے ترقی کے جہاں بچے بزرگوں کے برابر بولتے ہیں نہیں ڈر ہے جو آ کر سامنے سے وار کرتا ہو یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہنس کر بولتے ہیں

hamaare paas bhi dil hai ye aksar bolte hain

غزل · Ghazal

ہوا میں اڑ نہ جائے داستاں دل کی دھواں ہو کر غزل میں نے کہی ہے بولتی سی بے زباں ہو کر ہمارے جسم پر سورج ستارے چاند چمکیں گے اگر ہم پھیل جائیں گے جہاں میں آسماں ہو کر مرے پیچھے بہت اشکوں بہت یادوں کی دنیا ہے چلا ہوں اس زمیں پر ہر جگہ میں کارواں ہو کر یقیناً پھولوں کی خوشبو میں جا کر گھل گئی ہوگی ہوا کچھ دیر پہلے ہی گئی میرے یہاں ہو کر کسی چوراہ پہ جب زندگی جا کر بھٹکتی ہے محبت راہ بتلاتی ہے وہ گزرے کہاں ہو کر بہت نزدیک سے تنہائیاں میں نے نبھائی ہیں جہاں کی بھیڑ سے تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہو کر

havaa mein uD na jaae daastaan dil ki dhuaan ho kar

Similar Poets