Anubhav Gupta
Anubhav Gupta
Anubhav Gupta
Ghazalغزل
ستم سہنے کی تیاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے محبت میں وفاداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے بہت ہم خود غرض تھے جب محبت کی تو یہ جانا کہ اپنی جان سے پیاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ضروری تو نہیں ہر بات ہونٹھوں سے کہی جائے نگاہوں کی اداکاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے اگر آنکھوں سے بہہ جائیں تو ہو جاتا ہے دل ہلکا بدن میں اشک سے بھاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے تقاضے اس سے ہم ہی کیوں کریں ہر روز ملنے کے ہماری اپنی خودداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ہمارے خط جہاں پڑھتے ہو یوں ہی ڈال دیتے ہو ارے کمرے میں الماری بھی کوئی چیز ہوتی ہے طرف داری تمہیں آتی ہے اپنے گھر کے لوگوں کی میاں میری طرف داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے عیادت کے بہانے میرے گھر وہ روز آتے ہیں محبت والوں بیماری بھی کوئی چیز ہوتی ہے
sitam sahne ki tayyaari bhi koi chiiz hoti hai
اسے یادوں میں جب لانا مسلسل کر دیا میں نے اسے وو ہچکیاں آئیں کہ پاگل کر دیا میں نے کتابوں میں پڑھے جب ایک طرفہ پیار کے قصے خود اپنا دل تمناؤں کا مقتل کر دیا میں نے کئی غزلیں پڑی تھیں نامکمل ایک عرصے سے اسے جب آج دیکھا تو مکمل کر دیا میں نے جو سایہ ہم قدم بن کر سفر میں ساتھ رہتا تھا ہمیشہ کے لئے خود سے الگ کل کر دیا میں نے سنا تو خیر سے آیا ہوں اس کو داستاں اپنی مگر ان پھول سی آنکھوں کو بوجھل کر دیا میں نے تمہارے بال میں نے کھول کر موسم بدل ڈالا فضا میں دور تک بادل ہی بادل کر دیا میں نے دھواں یادوں کا ہی کافی تھا دل کمزور کرنے کو جلا کر راکھ کل بیڑی کا بنڈل کر دیا میں نے
use yaadon mein jab laanaa musalsal kar diyaa main ne
فضائے دل میں گھنی تیرگی سی لگتی ہے کہیں کہیں پہ ذرا روشنی سی لگتی ہے بڑا عجیب محبت کا دور ہوتا ہے کہیں پہ موت کہیں زندگی سی لگتی ہے چمکنے لگتی ہے ہر چیز میرے کمرے کی تمہاری یاد کوئی پھلجھڑی سی لگتی ہے میں سوچتا ہوں کہوں کیسے بے وفا اس کو مجھے تو اپنے ہی اندر کمی سی لگتی ہے تمہاری یاد کو جب بھی گلے لگاتا ہوں مرے بدن میں کوئی سنسنی سی لگتی ہے کوئی بہت بڑا طوفان آنے والا ہے جہاں بھی دیکھو ہوا چپ کھڑی سی لگتی ہے تمہاری سوچ میں میں رنگ اپنے بھر نہ سکا یہ سوچتا ہوں تو شرمندگی سی لگتی ہے
fazaa-e-dil mein ghani tirgi si lagti hai
دل یہی سوچ کے بیتاب ہوا جاتا ہے در بدر میرا ہر اک خواب ہوا جاتا ہے رات دن درد کے آغوش میں جلتی سانسیں اب لہو جسم کا تیزاب ہوا جاتا ہے بہتے رہتے ہیں ان آنکھوں سے مسلسل آنسو شہر دل وادئ بے آب ہوا جاتا ہے جب بھی پڑتی ہے کھلی دھوپ زمیں پر اس کی اس کا چہرہ کوئی مہتاب ہوا جاتا ہے تیری یادوں کی مہک اور یہ ہلکی رم جھم آج بستر بھی تو کم خواب ہوا جاتا ہے جانے کیا بات ہے جو آپ کی قربت پا کر آم انسان بھی نایاب ہوا جاتا ہے بزم میں آپ کے آنے کی کھبر سن سن کر دل میرا خطۂ شاداب ہوا جاتا ہے کیا کروں اب میں زمانہ سے محبت کر کے یہ سمندر بھی تو پایاب ہوا جاتا ہے کیا کہوں آئے دنوں گاؤں میرا فیشن میں کبھی دلی کبھی پنجاب ہوا جاتا ہے
dil yahi soch ke betaab huaa jaataa hai
یہ دل ہی جانتا ہے پھر کہاں کہاں بھٹکے بچھڑ کے تم سے ہم آخر کہاں کہاں بھٹکے ہمارے پاؤں کے چھالے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے پیار کی خاطر کہاں کہاں بھٹکے تمہاری چاند سی تصویر کے تصور میں ہمیں پتا ہے مصور کہاں کہاں بھٹکے تمہیں پتا ہی نہیں تم کو دیکھنے کے بعد غزل کے نام سے شاعر کہاں کہاں بھٹکے خدا ہی جانے مرے خواب بیچ دینے کے بعد مری وفاؤں کے تاجر کہاں کہاں بھٹکے کبھی جو گھر سے نہ نکلا ہو اس کو کیا معلوم سفر میں کتنے مسافر کہاں کہاں بھٹکے ملا اندھیرے میں جو کچھ خدا بنا ڈالا خدا کو چھوڑ کے کافر کہاں کہاں بھٹکے کہیں قرار نہ آیا کہیں سکوں نہ ملا بچھڑ کے گھر سے مہاجر کہاں کہاں بھٹکے
ye dil hi jaantaa hai phir kahaan kahaan bhaTke





