Anwar Badnam
Anwar Badnam
Anwar Badnam
Ghazalغزل
حال دل حال جہاں جب بھی سنایا اس نے مجھ سے وحشی کو بھی یک لخت رلایا اس نے اس کی تصویر کا اک دوسرا رخ آیا نظر کرب کا آئنہ جب مجھ کو دکھایا اس نے قصۂ رنج و الم اپنا سنانے کے لئے ایک ویران حویلی میں بلایا اس نے لاکھ تعویذ سے بہتر ہے کہیں ماں کی دعا مجھ کو پردیس میں احساس دلایا اس نے شاخ امید پہ کھلتے ہیں فقط درد کے پھول کیسا پودا مرے آنگن میں لگایا اس نے ہم نے بدنامؔ محبت کو لکھا لفظ عظیم بے سبب کفر کا الزام لگایا اس نے
haal-e-dil haal-e-jahaan jab bhi sunaayaa us ne
کیوں اٹھے ہاتھ میں خنجر دیکھو یہ زمیں کس کی ہے بنجر دیکھو تاج اور تخت سبھی چھوڑ گئے ایسے کتنے ہیں سکندر دیکھو شہر کی اونچی عمارت سے کبھی جا کے فٹ پاتھ کا منظر دیکھو تم کبھی رات کی تاریکی میں میری آنکھوں کا سمندر دیکھو سر جھکاتے ہیں جہاں شاہ و گدا ہیں بہت ایسے قلندر دیکھو
kyon uThe haath mein khanjar dekho
بھائی کو بھائی سے عداوت ہے دیش کیسے مرا سلامت ہے مے کشی تو گناہ ہے لیکن ذہن و دل میں بھی کچھ بغاوت ہے آپ خود کو عظیم کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ حماقت ہے روشنی جو کبھی لٹاتے تھے جگنوؤں کی انہیں ضرورت ہے ہر نفس اک حسین ہے پیاسا ہر قدم پر کوئی شہادت ہے جھوٹ اور سچ کا فیصلہ کیا ہو سیم و زر کی دکاں عدالت ہے
bhaai ko bhaai se 'adaavat hai
تیز طوفان تھا تنہا میں سفر کیا کرتا تم مرے ساتھ جو ہوتے تو بھنور کیا کرتا آگ اپنوں نے لگائی ہے گھنے جنگل میں ایک قطرہ بھی نہ پانی تھا شجر کیا کرتا ایک دو گام میں چلتا تھا ٹھہر جاتا تھا گرد ہی گرد تھی تا حد نظر کیا کرتا مصلحت تھی یہ خدا کی کہ بنے اک دنیا باغ فردوس میں ادنیٰ سا بشر کیا کرتا تیرا ملنا بھی نہ ملنے کے برابر ہوتا آخری وقت میں بدنامؔ خبر کیا کرتا
tez tufaan thaa tanhaa main safar kyaa kartaa





