SHAWORDS
Anwar Bari

Anwar Bari

Anwar Bari

Anwar Bari

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تعلق کے نئے انداز سے خاکے بناتا ہے کوئی دیوار چنتا ہے وہ دروازے بناتا ہے گزر جاتی ہے اپنی حد سے جب آنگن کی تنہائی لکیریں کھینچ کے کاغذ پہ وہ بچے بناتا ہے ہنر آتا ہے اس کو وقت کے تیور بدلنے کا مگر وہ کاغذی پھولوں کے گلدستے بناتا ہے سزا کا مستحق ٹھہرا رہے ہو کس لیے اس کو حقیقت تم سمجھتے ہو وہ افسانے بناتا ہے پریشانی ہماری چھو رہی ہے آسمانوں کو کبھی باتیں بناتا تھا وہ اب قصے بناتا ہے نتیجہ اپنی فن کاری کا ہے پیش نظر اس کے مگر وہ پتھروں کی زد میں آئینے بناتا ہے لہو تو صاف ہو جائے گا سڑکوں کا مگر انورؔ اسے بھی ذہن میں رکھو جو منصوبے بناتا ہے

ta'alluq ke nae andaaz se khaake banaataa hai

غزل · Ghazal

خود کو پانے کی ہم کوششوں میں رہے زندگی کے نئے تجربوں میں رہے رشتۂ درد کے دائروں میں رہے دوستوں کی طرح دشمنوں میں رہے جو بدلتے رہے ہیں زمانے کا رخ حادثوں میں پلے حادثوں میں رہے ہم نئی شاعری کی بقا کے لیے فکر کے منفرد زاویوں میں رہے ہم انا کی حفاظت کی خاطر سدا اپنے احساس کی سرحدوں میں رہے کیسی کیسی امیدیں لہو ہو گئیں مبتلا جو غلط فہمیوں میں رہے وقت کی سازشوں سے رہے باخبر وہ ابابیل جو مقبروں میں رہے امن عالم میں وہ ڈالتے ہیں خلل ہو کے معتوب جو جنگلوں میں رہے

khud ko paane ki ham koshishon mein rahe

غزل · Ghazal

رخ ترے سوچنے کا بدلا کیوں تو مرا نام سن کے چونکا کیوں گھر کی دیواریں ہو گئیں اونچی تم نے باہر کا خواب دیکھا کیوں لفظ کیوں بن رہے ہیں آوازیں سانس لینے لگا اندھیرا کیوں لوگ پہلے ہی بد گماں کم تھے تم نے میرا مزاج پوچھا کیوں جس نے گھر ہی ہمارا پھونک دیا تم نے ایسا دیا جلایا کیوں بات کمزور اگر نہ کرتے آپ ہوتا مجبوریوں کا سودا کیوں جسم تو دھوپ سے جلے گا ہی تم نے سایہ شجر کا بیچا کیوں

rukh tire sochne kaa badlaa kyon

غزل · Ghazal

سنتے ہیں کہ اس شب کا سویرا نہیں ممکن اللہ اگر چاہے تو پھر کیا نہیں ممکن اس خواب کو تم آنکھوں سے گرنے نہیں دینا ویسے تو کسی پل کا بھروسہ نہیں ممکن خوشبو مری سانسوں میں رفاقت کی بھری ہے ہو ختم کسی سے مرا رشتہ نہیں ممکن وہ زہر تعصب جو یہاں اب بھی بہت ہے دنیا کے کسی کونے میں ہوگا نہیں ممکن پامالئ باطل کی مثالوں سے ہے ثابت معدوم ہو سچائی کا رستہ نہیں ممکن اس ہجر کے موسم کی طوالت سے ہے ظاہر ہو منعقد جشن تمنا نہیں ممکن دم بھرتا ہوں تہذیب کا میں گنگ و جمن کی اردو نہ پڑھے میرا ہی بچہ نہیں ممکن

sunte hain ki is shab kaa saveraa nahin mumkin

غزل · Ghazal

تجربے کار تھے ہم ذہن میں جادہ رکھا زیر پا اپنے حوادث کو مبادا رکھا یہ بتا ترک تعلق کا گنہ گار ہے کون میں نے سوچا بھی نہیں تو نے ارادہ رکھا مصلحت پیشہ ہر اک شخص مگر میری طرح ذہن کو اپنے یہاں کس نے کشادہ رکھا اس نے فائز کیے آقاؤں کے منصب پہ غلام اور خود جسم پہ بوسیدہ لبادہ رکھا شاہ کو علم تھا وہ شاہ بھی بن سکتا ہے اس لیے فوج میں صرف اس کو پیادہ رکھا مجھ کو یہ علم تھا وہ دوست نما دشمن ہے اس لیے میں نے اسے یاد زیادہ رکھا اس کی یادوں کی امانت ہے مرا دل انورؔ یہ ورق وہ ہے ہمیشہ جسے سادہ رکھا

tajribe-kaar the ham zehn mein jaada rakkhaa

غزل · Ghazal

مجھ کو فریب دینے کی کوشش بہت ہوئی پھیکے تبسموں کی نمائش بہت ہوئی پانی بھی اتنا برسا کے طوفان آ گئے اس سال پتھروں کی بھی بارش بہت ہوئی ہم سے تمام سال کی تفصیل پوچھیے ہمدردیوں کے نام پہ سازش بہت ہوئی جتنے گھنے درخت تھے جڑ سے اکھڑ گئے کل رات آندھیوں کی نوازش بہت ہوئی نقاد بھی تعلق خاطر میں بہہ گئے تنقید کم ہوئی ہے ستائش بہت ہوئی پیچیدہ مسئلوں نے سنبھلنے نہیں دیا جینے کی طرح جینے کی خواہش بہت ہوئی بینائی حیرتوں سے نہ باہر نکل سکی پردے کے پیچھے سایوں میں جنبش بہت ہوئی

mujh ko fareb dene ki koshish bahut hui

Similar Poets