SHAWORDS
Anwar Khalil

Anwar Khalil

Anwar Khalil

Anwar Khalil

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ہوں مبارک تم کو شیدائی بہت ہیں ہمارے بھی تمنائی بہت ہم ہی کچھ اس کے نہ کام آئے کبھی زندگی تو اپنے کام آئی بہت رات بھی تھے گوش بر آواز ہم دل دھڑکنے کی صدا آئی بہت ڈوبنا چاہیں تو اے ظالم ہمیں ہے تری آنکھوں کی گہرائی بہت ہم ہی کچھ سوچیں گے اب اے چارہ گر دیکھ لی تیری مسیحائی بہت بد گماں ہوتے نہ تھے یوں تجھ سے ہم آج کل رہتی ہے تنہائی بہت بے وفا اس کو ہی کیوں کہیے خلیلؔ ہے ہمارا دل بھی ہرجائی بہت

hon mubaarak tum ko shaidaai bahut

غزل · Ghazal

اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں تیور تو ان کے دیکھ ذرا کس بلا کے ہیں کیا ماجرا ہے اے بت توبہ شکن کہ آج چرچے تری گلی میں کسی پارسا کے ہیں اس چشم نیم وا کی ہے مستی شراب میں ساغر میں سارے رنگ اسی کی حیا کے ہیں ہستی کی قید کاٹتے رہتے ہیں رات دن کیا جانے کتنے سال ہماری سزا کے ہیں اے شیخ کیا ڈراتا ہے میدان حشر سے ہم بندگان خلق بھی بندے خدا کے ہیں ہے خوف کچھ تو موج تلاطم کا بھی مگر ہم لوگ زخم خوردہ بت ناخدا کے ہیں رہنا پڑا ہے دور کراچی سے ورنہ ہم اس شہر بے مثال کے عاشق سدا کے ہیں رائج رہیں گے شہر سخن میں ہمارے شعر سکے ہیں یہ کھرے کہ یہ قصے وفا کے ہیں رکھتا ہے اک سلیقۂ اظہار مختلف سب معترف خلیلؔ کی طرز ادا کے ہیں

is bhuul mein na rah ki ye jhonke havaa ke hain

غزل · Ghazal

وہ ایک غم کہ سہارا تھا زندگی کے لیے بھلا رہا ہوں اسے بھی تری خوشی کے لیے تو یوں خیال کے دروازے ہم پہ بند نہ کر ہزار شہر کھلے ہوں گے اجنبی کے لیے جہاں میں کون بچا ہے ہمارے قتل کے بعد جو تیری زلف مچلتی ہے برہمی کے لیے خزاں کا دور چمن میں نیا نہیں ہے مگر کلی کلی نہ ترستی تھی تازگی کے لیے ہر ایک سمت سرابوں کے قافلے ہیں رواں نظر نظر میں بیاباں ہے آدمی کے لیے جگر کے داغ چھپائے کبھی جو ہم نے خلیلؔ اندھیرے دل میں اتر آئے روشنی کے لیے

vo ek gham ki sahaaraa thaa zindagi ke liye

غزل · Ghazal

انجام عشق مانا اکثر برا ہوا ہے بے عشق زندگی کا انجام کیا ہوا ہے کیا حال دل سنائیں کیا وجہ غم بتائیں بس یہ کہ آج کل وہ ہم سے کھچا ہوا ہے کیا ذکر گل رخوں کا اس شہر کے کریں ہم ہر شخص ہی یہاں تو قاتل بنا ہوا ہے کس کس سے مل چکے ہیں کس کس سے اب ملیں گے اک روگ زندگی کو یہ بھی لگا ہوا ہے ایسی خلیلؔ آخر کیا بات ہو گئی ہے آنکھیں اداس سی ہیں چہرہ بجھا ہوا ہے

anjaam-e-ishq maanaa aksar buraa huaa hai

غزل · Ghazal

دل میں ویرانیاں سسکتی ہیں کیسی روحیں یہاں بھٹکتی ہیں یہ تعاقب میں کون آتا ہے کس کی پرچھائیاں لپکتی ہیں رونقیں جنگلوں میں گریہ کناں شہر میں آندھیاں بلکتی ہیں آسماں ٹوٹ کر نہیں گرتا بجلیاں رات بھر کڑکتی ہیں عشق آسیب ہو گیا جیسے خواہشیں زہر بن کے پکتی ہیں گم ہوئے قافلے تمنا کے منزلیں راستوں کو تکتی ہیں دل میں رکتی نہیں تری یادیں نوک مژگاں سے آ ٹپکتی ہیں خوف آتا ہے جاگنے سے ہمیں ورنہ آنکھیں کہاں جھپکتی ہیں

dil mein viraaniyaan sisakti hain

غزل · Ghazal

غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے اپنا تو اس گلی میں چرچا بہت رہا ہے سمجھو نہ یوں کہ ہم سے وہ جان جاں خفا ہے اپنی تو کچھ طبیعت بس یوں ہی بے مزہ ہے ہاں انجمن میں کم ہے اس کو حجاب لیکن انجان سا رہا ہے تنہا اگر ملا ہے اک عمر کی رفاقت یوں ختم ہو رہی ہے ہم اس سے بد گماں وہ ہم سے گریز پا ہے قیدی کی طرح سونا مجرم کی طرح اٹھنا یہ زندگی نہ جانے کس جرم کی سزا ہے

ghairon kaa jaane us se kaisaa moaamla hai

Similar Poets