
Anwar Khan
Anwar Khan
Anwar Khan
Ghazalغزل
اتری شام تو برسا پانی یا اللہ ہم جیسوں کی یہی کہانی یا اللہ کیوں ہم پہ الزام ہے مولیٰ سازش کا کب تھے ہم دریا طوفانی یا اللہ سورج کی دہلیز پہ آ کر ٹھہر گئے اندھیروں نے کیا ہے ٹھانی یا اللہ من مندر میں پیار کی کوئی گونج نہیں بھیج کوئی میرا دیوانی یا اللہ اپنے لشکر میں جب صرف بہتر تھے ہم نے تب بھی ہار نہ مانی یا اللہ
utri shaam to barsaa paani yaa allaah
کہاں تک دور رہ پاؤں گا خود سے میں اک دن ملنے آ جاؤں گا خود سے زمیں کی وسعتوں کو چھوڑ دوں گا وفاداری نبھا جاؤں گا خود سے بہت مشکل ہے صحرا پار کرنا تمہارے بن نہ مل پاؤں گا خود سے مجھے نہ روک پائے گی یہ دنیا مجھے لگتا ہے ٹکراؤں گا خود سے
kahaan tak duur rah paaungaa khud se
ہوا کے ساتھ اڑ جائے گا پانی یہیں پھر لوٹ کر آئے گا پانی تعلق اک مسلسل سلسلہ ہے جہاں ٹھہرے گا مر جائے گا پانی مسلسل بارشیں ہوتی رہیں تو ہمارے گھر بھی آ جائے گا پانی ہماری پیاس بڑھ جائے گی جس دن اسی دن آگ بن جائے گا پانی جنوں کی فصل گر اگتی رہی تو زمیں پر آگ برسائے گا پانی
havaa ke saath uD jaaegaa paani
کہاں تک مجھ کو ٹھکرائے گی دنیا کبھی تو خود کو سمجھائے گی دنیا میاں دل سے غلط فہمی نکالو تمہارے بن بھی چل جائے گی دنیا مجھے بھی روک ہی لے گا زمانہ تمہیں بھی یاد آ جائے گی دنیا اسے اپنا نہیں ہے ہوش انورؔ تمہیں کیا خاک سمجھائے گی دنیا
kahaan tak mujh ko Thukraaegi duniyaa





