Anwar Malik
جب کبھی تیرا خیال آ جائے گا روشنی ہر سمت پھیلا جائے گا ایک مدت ہو گئی تجھ کو گئے کب ترے آنے کا دھوکا جائے گا داستان دل مکمل بھی تو ہو پھر کوئی عنوان سوچا جائے گا رنجشوں کی دھول چہرے پر نہ ڈال آئنے کا عکس دھندلا جائے گا کرب کا طوفاں امڈ آیا اگر سوچ کا سورج بھی گہنا جائے گا ہر زباں پر داستاں ہوگی مری ہر گلی میں تیرا شہرہ جائے گا
jab kabhi teraa khayaal aa jaaegaa