
Anwar Sadiqui
Anwar Sadiqui
Anwar Sadiqui
Ghazalغزل
ishq ki aasudgi ko aur kyaa darkaar thaa
عشق کی آسودگی کو اور کیا درکار تھا گیسوؤں کی چھاؤں تھی یا سایۂ دیوار تھا در حقیقت وہ قریب جلوہ گاہ یار تھا جس کی آنکھوں میں مذاق حسرت دیدار تھا آج وہ کیوں کھا رہا ہے در بدر کی ٹھوکریں تخت عالم کا جو کل تک مالک و مختار تھا ماورائے عیش تھا جب آدمیت کا وجود کس قدر بے داغ وہ آئینۂ کردار تھا ذوق نظارہ کی قوت سلب ہو کر رہ گئی جلوہ گاہ ناز پر کیا پردۂ اسرار تھا تا قیامت جس کے نقش پا رہیں گے ضو فشاں فخر ہے ہم کو وہ اپنا قافلہ سالار تھا مغفرت فرمائے مولیٰ صادقؔ مرحوم کی وہ مرا استاد انورؔ اک بڑا فن کار تھا
ik khudi be-khudi ke andar hai
اک خودی بے خودی کے اندر ہے راز خود راز ہی کے اندر ہے اک قیامت کوئی قیامت سی زیر لب خامشی کے اندر ہے ایک اک قطرہ گریۂ شبنم پھول جیسی ہنسی کے اندر ہے ہنس پڑے ہم تو رو پڑیں آنکھیں غم بھی شاید خوشی کے اندر ہے دن ڈھلے گا تو رات آئے گی تیرگی روشنی کے اندر ہے حسن آرائیاں بجا لیکن دل کشی سادگی کے اندر ہے نعرۂ انقلاب اے انورؔ آج بھی شاعری کے اندر ہے
khuun paani ek kar apni pareshaani na dekh
خون پانی ایک کر اپنی پریشانی نہ دیکھ یہ مذاق شاعری ہے اس میں آسانی نہ دیکھ ملتجی آنکھوں میں عشرت یافتہ پانی نہ دیکھ کرب میں ڈوبے ہوئے چہروں میں تابانی نہ دیکھ تجھ میں حیراں کن ہزاروں زاویے خود ہیں نہاں اپنی صورت دیکھ آئینے کی حیرانی نہ دیکھ کر کے ہمت ڈ دے اپنے نشیمن کی بنا گلستاں میں بجلیوں کی فتنہ سامانی نہ دیکھ ڈبڈبا جائیں گی آنکھیں خون رو اٹھے گا دل عشق کی راہوں میں اہل حق کی قربانی نہ دیکھ بخشنے والا تو بخشے گا ضرورت سے سوا مانگنے والے تو اپنی تنگ دامانی نہ دیکھ نسل آدم کے لئے انورؔ لٹا دے زندگی اپنی آفت اپنا غم اپنی پریشانی نہ دیکھ
na meraa husn-e-zan samjhaa na andaaz-e-sukhan dekhaa
نہ میرا حسن ظن سمجھا نہ انداز سخن دیکھا اگر دیکھا تو دنیا نے دریدہ پیرہن دیکھا کہیں حسن تکلم تو کہیں حسن بدن دیکھا مگر ارباب حق کو اس جہاں میں خستہ تن دیکھا صلیب برگ کا ہر اشک شبنم روئے گل پر تھا یہ منظر تو نے کیا اے صبح کی پہلی کرن دیکھا بدن کی کھال کھنچوا دی ندائے قم باذنی نے انا الحق کی صدا کو زینت دار و رسن دیکھا مرے محبوب کا چہرہ اور اس پر دل نشیں صحرا عروس یاسمیں سے یوں وصال نسترن دیکھا سلوک بے رخی نے غیریت کو تقویت بخشی وطن ہی میں وطن والوں کو ہم نے بے وطن دیکھا ملی داد اتنی انورؔ جیسے بے مایہ سخنور کو مآل نکساری تم نے اہل انجمن دیکھا
rah-e-hasti mein koi rahnumaa honaa zaruri hai
رہ ہستی میں کوئی رہنما ہونا ضروری ہے سفر کشتی کا ہو تو ناخدا ہونا ضروری ہے تری آنکھوں میں کچھ شرم و حیا ہونا ضروری ہے دریدہ ہی سہی سر پر ردا ہونا ضروری ہے جو نفرت ہو تو لازم ہے زباں پر مہر خاموشی محبت ہے تو پھر شکوہ گلہ ہونا ضروری ہے انہوں نے جو بھی فرمایا تھا وہ سب ہو چکا لیکن خدا جانے جہاں میں اور کیا ہونا ضروری ہے کہا رب نے نشاں فرش زمیں پر چھوڑنے والے قریب عرش تیرا نقش پا ہونا ضروری ہے ملے گی بالیقیں تم کو بقا کی کامراں منزل کسی کے عشق میں لیکن فنا ہونا ضروری ہے سپر بھی تیغ بھی تن پر ذرہ بکتر سہی انورؔ برائے جنگ دل میں حوصلہ ہونا ضروری ہے
adab ki ilm-o-fan ki ik mukammal daastaan main huun
ادب کی علم و فن کی اک مکمل داستاں میں ہوں میں اردو ہوں میں اردو دختر ہندوستاں میں ہوں یہاں میں ہوں وہاں میں ہوں عیاں میں ہوں نہاں میں ہوں مکیں میں ہوں مکاں میں ہوں زمیں میں ہوں زماں میں ہوں یہی تو ایک جاں دو جسم ہونے کی علامت ہے جہاں میں ہوں وہاں تو ہے جہاں تو ہے وہاں میں ہوں میں گل ہوں میں بہاراں میں ہی رنگ و نور اور نکہت نگاہ دل سے دیکھوں شاہکار گلستاں میں ہوں جہاں کی بے رخی سے تم کبھی مایوس مت ہونا تمہارا آشنا میں ہوں تمہارا قدرداں میں ہوں تجھے یہ ناز تیری سر زمیں ہے گلشن جنت مجھے یہ فخر ہے باشندۂ ہندوستاں میں ہوں میں انورؔ ہوں مجھے سمجھو مجھے دیکھو پڑھو مجھ کو ہر اک مجموعۂ الفت کا کامل ترجماں میں ہوں





