SHAWORDS
Anwar Sheikh

Anwar Sheikh

Anwar Sheikh

Anwar Sheikh

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ستم گر یار کی ایسی کی تیسی دل لاچار کی ایسی کی تیسی بڑھائے اور بھی احساس غم جو ہو اس غم خوار کی ایسی کی تیسی ہنسی جو حال دل سن کر اڑائے ہو اس دل دار کی ایسی کی تیسی نہ جس میں کچھ خلوص و دل ربائی ہو اس اقرار کی ایسی کی تیسی صنم کی دید بہلائے نہ جس کو ہو اس بیمار کی ایسی کی تیسی نہ چشم یار جس سے ڈبڈبائے ہو اس اظہار کی ایسی کی تیسی رہا جو بے رخی کا ترجماں جو ہو اس معیار کی ایسی کی تیسی کریں گمراہ جو نام خدا پر ہو ان اقدار کی ایسی کی تیسی نظر آئے نہ جس کو جز شرارت دل بیدار کی ایسی کی تیسی اگر بچے ہوں فاقوں سے بلکتے ہو اس تہوار کی ایسی کی تیسی نظر آئے جو کانٹوں کا بچھونا ہو اس گلزار کی ایسی کی تیسی جو مشکل دور میں آنکھیں چرائے ارے اس یار کی ایسی کی تیسی فن تعمیر سے نا آشنا جو ہو اس معمار کی ایسی کی تیسی نہ سر دشمن کا جو کاٹے رفیقو ہو اس تلوار کی ایسی کی تیسی نہ جانے فرق آب و مے جو ہمدم ہو اس مے خوار کی ایسی کی تیسی رلائے ہر گھڑی تجھ کو جو انورؔ ترے اس پیار کی ایسی کی تیسی

sitamgar yaar ki aisi ki taisi

غزل · Ghazal

ڈروں کیونکر بڑا ہے لطف دریا کی روانی میں جنہیں طوفاں سے لڑنا ہو وہی رہتے ہیں پانی میں نہ حوروں میں نہ غلماں میں نہ ہے بادہ ساغر میں حقیقی لطف تو زاہد ہے لمحات جوانی میں بڑی ہی دل کشی ہے مال و زر جنت کی باتوں میں تڑپ لیکن کہاں ہے جو محبت کی کہانی میں کہاں فطرت کے نظاروں بہاروں میں ستاروں میں کہ جو تسکین ملتی ہے مجھے تیری نشانی میں صداقت سے کہیں بڑھ کر لگے ہے جھوٹ کا رتبہ بڑی تاثیر ہے واعظ تری جادو بیانی میں تمہارے بادۂ جنت کی باتیں صرف باتیں ہیں نرالا ہے مزا ناصح شراب ارغوانی میں سکوں ہے موت کا قاصد نہ کرنا آرزو اس کی تغیر ہے اساس زندگی دنیائے فانی میں کبھی سوچا ہے ناداں تم تو خود ہی اپنی دنیا ہو ضروری کیا کہ کھو جاؤ جہاں کی بیکرانی میں شہیدوں کے ارادوں سے ہوا مجھ پر عیاں آخر حیات جاوداں کا راز موت ناگہانی میں جنوں ہے وصل کا تم کو نہ سمجھو پیار کی باتیں مزا کچھ اور انورؔ گل رخوں سے کھینچا تانی میں

Darun kyunkar baDaa hai lutf dariyaa ki ravaani mein

غزل · Ghazal

وہ سپنوں میں ملے آ کر کہو اس میں برا کیا ہے وہ بہلاتا ہے دل کو گر کہو اس میں برا کیا ہے ہے بربادی سی آبادی اسے پانے کی خاطر میں اگر پھرتا رہوں در در کہو اس میں برا کیا ہے نہیں کچھ رسم و رہ ہم سے نہ ملتے ہیں نہ لکھتے ہیں مگر یاد آتے ہیں اکثر کہو اس میں برا کیا ہے نہ لٹنے کا کوئی خدشہ نہ ڈر ہے اب لٹیروں کا لٹایا جب سے اپنا گھر کہو اس میں برا کیا ہے یہ کیا اعجاز ترک مے خدا خوش ہے ملا وہ بھی جو مثل مے نشہ آور کہو اس میں برا کیا ہے گزاری عمر ساری ڈھونڈنے میں تم کو اے جانم نہ جانوں فرق خیر و شر کہو اس میں برا کیا ہے تمہیں دیکھا تو آزادی سے مجھ کو ہو گئی نفرت اگر مانوں تمہیں افسر کہو اس میں برا کیا ہے مجھے انورؔ ستاتے ہو گھماتے ہو نچاتے ہو بنا ہوں اب میں بازی گر کہو اس میں برا کیا ہے

vo sapnon mein mile aa kar kaho is mein buraa kyaa hai

غزل · Ghazal

نا جا یوں روٹھ کر دلبر ذرا رک جا ذرا رک جا مری قسمت کے سودا گر ذرا رک جا ذرا رک جا مری ہر سانس آہو کی طرح مجھ سے گریزاں ہے نہیں سنتی کہا اکثر ذرا رک جا ذرا رک جا بھٹکتا ہی گیا وہ تو ہوس کی بیکرانی میں پکارا لاکھ اے رہبر ذرا رک جا ذرا رک جا نہ لوٹ اے یاد رفتہ میرے ارمانوں کی نگری میں لگے ماضی سے مجھ کو ڈر ذرا رک جا ذرا رک جا بڑا نازک ہے اے مکھی مگر مکڑے کا جالا ہے نہیں یہ ریشمی بستر ذرا رک جا ذرا رک جا بگڑتا کھیل ہے بنتا نہیں یہ جلد بازی سے یہی کہتے ہیں دانشور ذرا رک جا ذرا رک جا تھما ہرگز نہ طوفان غم فرقت کہا گرچہ بہ نام اللہ اکبر ذرا رک جا ذرا رک جا ہلال عید جب دیکھا اسے رخصت کی تب سوجھی کہا میں نے خدا سے ڈر ذرا رک جا ذرا رک جا وہ آنے کو ہیں ملک الموت آہا تجھ کو کیا عجلت خدارا یوں نہ جلدی کر ذرا رک جا ذرا رک جا مجھے لطف تجسس میں ہیں بھائے جب سے ویرانے کہے وہ لوٹ آ اب گھر ذرا رک جا ذرا رک جا خیال آبرو ہے میں تمہیں کب تک مناؤں گا کہوں گا میں نہ اب ہمسر ذرا رک جا ذرا رک جا سنی اس نے نا رحماں کی نہ شیطاں کی نہ یزداں کی کہا سب نے اسے انورؔ ذرا رک جا ذرا رک جا

na jaa yuun ruuTh kar dilbar zaraa ruk jaa zaraa ruk jaa

غزل · Ghazal

ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو ہمارا دل دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو یہ کیا طرز محبت ہے مرادیں غیر کو لیکن ہمیں الو بناتے ہو خدا غارت کرے تم کو عدو کو پیش کرتے ہو شراب انگبیں جانم ہمیں تلچھٹ پلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو تمہیں ہے غیر سے چاہت کہے کچھ بھی وہ کرتے ہو پہ ہم کو آزماتے ہو خدا غارت کرے تم کو اسے بوسے ہمیں لاتیں اسے وعدے ہمیں گھاتیں یہ کیسے گل کھلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو اگر کہنا ہو کچھ ہم سے ہمیشہ گھور کر دیکھو عدو پر مسکراتے ہو خدا غارت کرے تم کو نظر مجھ پر جماتے ہو پہ دیکھو غیر کی جانب یہ کیا چکر چلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو مرا قصر تمنا توڑ کر انورؔ مگر اب کیوں نئے سپنے دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

hamesha varghalaate ho khudaa ghaarat kare tum ko

غزل · Ghazal

جب ملے ہے پوچھتا تم کون ہو تم کون ہو آہ یہ کیسی ادا تم کون ہو تم کون ہو دور مشکل میں گلہ اغیار کا کیسے کروں جب کہے یہ آشنا تم کون ہو تم کون ہو مالک کرسی تھا تو کرتے تھے جو جھک کر سلام وہ کہیں جب سے گرا تم کون ہو تم کون ہو جب کہا چاہت عدو سے اصل میں توہین عشق بے وفا کہنے لگا تم کون ہو تم کون ہو چاہے جب پھسلائے مجھ کو چاہوں میں کچھ بھی اگر تو کہے یہ مہ لقا تم کون ہو تم کون ہو دل ہے اصل زندگی دینے سے پہلے غیر کو پوچھنے میں کیا برا تم کون ہو تم کون ہو بندۂ ناچیز ایسا یوم محشر کو اگر کیا عجب پوچھے خدا تم کون ہو تم کون ہو جب کہا جپتے ہیں مالا ہم تو تیرے نام کی ہنس کے اس نے کہہ دیا تم کون ہو تم کون ہو دل میں تصویر صنم ہونٹوں پہ ہے نام خدا میں سنوں ہر دم صدا تم کون ہو تم کون ہو وعدۂ بوسہ کیا لیکن عوض میں دی چپت اور نخوت سے کہا تم کون ہو تم کون ہو عاشقی مسلک وہ انورؔ جس میں دو بنتے ہیں ایک یہ گنہ ہے پوچھنا تم کون ہو تم کون ہو

jab mile hai puchhtaa tum kaun ho tum kaun ho

Similar Poets