Anwari Begum
Anwari Begum
Anwari Begum
Ghazalغزل
وہ چاند ابر سے جس وقت بے نقاب ہوا عجب شباب کے عالم میں انقلاب ہوا جنوں کے حصے میں صحرا نوردیاں آئیں تمام عمر کہاں عشق باریاب ہوا چمن میں نغمہ سرا کیوں کوئی نہیں ملتا ہوا تو کون سے موسم کا ہے عتاب ہوا مری زباں پہ تو حرف گلہ نہیں آیا وہ آپ اپنے عمل سے ہی آب آب ہوا سمجھ سکی نہ اسے انوریؔ ابھی تک میں عجیب میری نگاہوں کا انتخاب ہوا
vo chaand abr se jis vaqt be-naqaab huaa
جانے کیوں کر اس قدر سہما ہوا ہے آئینہ آئینے کو دیکھ کر بھی ڈر رہا ہے آئینہ کیا کوئی معصوم سی صورت نظر میں آ گئی کیوں سوالوں میں الجھ کر رہ گیا ہے آئینہ آپ اپنے آپ کو اس سے چھپا سکتے نہیں آپ کی اک اک ادا سے آشنا ہے آئینہ خواہشوں کے جال میں الجھا ہوا ہے ہر بشر کون کتنا بے غرض ہے جانتا ہے آئینہ آشیاں میرا جلایا نوچ ڈالے پر مرے آپ کو اس حال میں بھی دیکھتا ہے آئینہ اس لئے سب نے نگاہوں سے گرایا ہے اسے جس کی جیسی شکل ہے وہ بولتا ہے آئینہ ہاتھ میں پتھر لئے کیوں بڑھ رہے ہو اس طرف چوٹ کھا کر خود بھی پتھر بن چکا ہے آئینہ ظلم کی تلوار کے سائے میں بھی ہوں سجدہ ریز انوریؔ ہر حال میں پہچانتا ہے آئینہ
jaane kyon kar is qadar sahmaa huaa hai aaina
اس کے طرز گفتگو پہ دل فدا ہو جائے گا ہاں مگر یہ دل کبھی صحرا نما ہو جائے گا ہو اگر ممکن صدف کی راہ دکھلا دے اسے ورنہ ہر قطرہ ہواؤں میں ہوا ہو جائے گا آدمی نے آج تک کھویا نہیں اپنا وجود آئینہ ٹوٹا اگر تو حادثہ ہو جائے گا باندھ لے رخت سفر جب فاصلے کا ڈر نہیں با عمل ہے جو بھی منزل آشنا ہو جائے گا سوچ کر رکھنا ہمیشہ اپنی چاہت کا بھرم ورنہ خود سے تو ہی خود نا آشنا ہو جائے گا
us ke tarz-e-guftugu pe dil fidaa ho jaaegaa
ایک عرصہ تک لیا ہے دشمنی کا جائزہ اور کیا لیتے کسی کی دوستی کا جائزہ دور کرنے میں رہے ہم دو دلوں کی تلخیاں دوست لیتے ہی رہے تر دامنی کا جائزہ ہر روش سے اٹھ رہا ہے صحن گلشن کی دھواں لیجئے آہ و فغاں و بے کسی کا جائزہ آپ پر اس کی حقیقت خود بخود کھل جائے گی لیجئے تو روشنی سے تیرگی کا جائزہ گھر سے جو لے کر نکلتا ہے ارادہ آہنی وہ لیا کرتا ہے بے شک وقت ہی کا جائزہ شکل سے کچھ اور ہی لگتا ہے دل سے اور ہی آدمی ایسے میں کیا لے آدمی کا جائزہ حشر سے پہلے قیامت انوریؔ ہے کس لیے ہوش ہے تو لیں ذرا ہم سب اسی کا جائزہ
ek arsa tak liyaa hai dushmani kaa jaaeza





