
Aqeel Farooq
Aqeel Farooq
Aqeel Farooq
Ghazalغزل
سب کی پردہ داری سے ڈر لگتا ہے یارو رسم یاری سے ڈر لگتا ہے کس نے آخر رویا تیری میت پہ کس کو آہ و زاری سے ڈر لگتا ہے کتنا مشکل ہے اب کچھ بھی سہہ لینا کتنا اب دشواری سے ڈر لگتا ہے جس نے سب رشتوں کو جانچا پرکھا ہو اس کو رشتہ داری سے ڈر لگتا ہے مجھ کو تو اب یوں ہی سوتے رہنے دو مجھ کو اب بیداری سے ڈر لگتا ہے کتنے چہرے کتنے انساں رکھتے ہیں لوگوں کی مکاری سے ڈر لگتا ہے اپنے اندر سونا سونا پھرتا ہوں اپنی ہی غم خواری سے ڈر لگتا ہے پہلے بھی دل ٹوٹا ہے میرا لیکن اب کے دل آزاری سے ڈر لگتا ہے
sab ki parda-daari se Dar lagtaa hai
1 views
ہر موڑ ہر قدم پہ یہ تڑپا گئی مجھے آخر مری تمنا ہی دفنا گئی مجھے منزل کی آرزو تھی وہی آرزو مگر رستے نہ جانے کون سے دکھلا گئی مجھے میں اپنی جستجو میں تھا پر عشق کی چبھن مجھ کو ہی مجھ سے چھین کے الجھا گئی مجھے مجھ کو خودی پہ ناز تھا اور بے شمار تھا میری انا کی آگ ہی جھلسا گئی مجھے
har moD har qadam pe ye taDpaa gai mujhe
1 views
کئی رشتوں کئی ناطوں کی دنیا فقط باتیں ہیں بس باتوں کی دنیا سکون و چین سے اے سونے والے تمہیں معلوم کیا راتوں کی دنیا کئی حصوں میں انساں بٹ چکا ہے کئی طبقوں کئی ذاتوں کی دنیا میں خود کو چھوڑ آیا ہوں کہیں پہ مرے اندر ہے اک یادوں کی دنیا جسے کہتے ہو تم یہ دوستی ہے وہی ہے بچھوؤں سانپوں کی دنیا تری دنیا حقیقت پر ہے مبنی مری دنیا مرے خوابوں کی دنیا
kai rishton kai naaton ki duniyaa
1 views
وقت تیزی سے گزرتا ہے گزر جانے دے ہاں مگر یاد ہی یادوں میں ٹھہر جانے دے تیرے غم میں تو بکھر جانے سے بہتر یہ ہے مجھ کو تقدیر کے ہاتھوں ہی بکھر جانے دے میرے بارے میں تو سوچا نہ کبھی بھی تم نے اب جدھر سے بھی بھٹک جاؤں ادھر جانے دے میں نے کیا کیا نہیں کھویا ہے تری چاہت میں من میں آتا ہے تجھے بولوں مگر جانے دے تم نئے دن کے اجالے کی حسیں رونق ہو میں اندھیرا ہوں سراسر مجھے مر جانے دے میں تجھے بھول نہ پایا ہوں کبھی بھی لیکن میں تجھے بھولوں گا دل سے تو اتر جانے دے تھک گیا ہوں میں عقیلؔ اس کے بنا جی کر بھی آج مجھ کو مرے وعدے سے مکر جانے دے
vaqt tezi se guzartaa hai guzar jaane de
1 views
ہائے تقدیر کے میداں میں سجی ہوتی ہے زندگی سے بھی سزا کوئی بڑی ہوتی ہے ایک دنیا ہے جو غیروں سے اجڑ جاتی ہے ایک دنیا ہے جو اپنوں سے جڑی ہوتی ہے ایک رفتار کے آگے نہ کبھی بڑھ پائے وقت کی تار تو پہلے سے کٹی ہوتی ہے کوئی احساس تمنا نہیں ہوتا ان کو زندگی جن کی بھی ٹکڑوں میں بٹی ہوتی ہے بجھ نہیں پاتی کبھی مل کے بھی دوبارہ پھر وہ جو اک آگ جدائی کی لگی ہوتی ہے
haae taqdir ke maidaan mein saji hoti hai
1 views





