
Aqib Jawed
Aqib Jawed
Aqib Jawed
Ghazalغزل
عشق میں اشک جو بہاتے ہو آگ پانی کو تم ملاتے ہو سارے پکوان پھر لگیں پھیکے ہونٹھ جب ہونٹھ سے لگاتے ہو ایک کانٹے سے پھول نے بولا شکریہ تم مجھے بچاتے ہو تیرنے کا ہنر نہیں پھر بھی گہرے پانی میں کیوں نہاتے ہو ڈر ہے جب دل کے ٹوٹ جانے کا ریت پہ گھر ہی کیوں بناتے ہو اتنا کیوں بغض ہے ستاروں سے ہاتھ بس چاند سے ملاتے ہو
ishq mein ashk jo bahaate ho
میرے الزام سب زمانے پر وہ نہیں ہے مرے نشانے پر پتھروں سے بھی عشق ہوتا ہے میں نے جانا یہ تجھ کو پانے پر ایک بادل بہت ہی رویا تھا ایک دریا کے سوکھ جانے پر مجھ کو آسان تھا رلا دینا دقتیں آئیں گی ہنسانے پر وقت کی قید میں رہا اتنا پنچھی اڑتا نہیں اڑانے پر کس طرح کا حساب ہے عاقبؔ عشق بڑھتا ہے کیوں گھٹانے پر
mere ilzaam sab zamaane par
نظر جھکا کے نظر سے گرا گئے مجھ کو میں آئنہ تھا حقیقت دکھا گئے مجھ کو میں بے گناہی کا اپنی ثبوت کیا دیتا وہ ساری غلطیاں میری گنا گئے مجھ کو بچھڑتے وقت انگوٹھی کو دے گئے واپس وہ جاتے جاتے بھی کتنا رلا گئے مجھ کو ستم کیے ہے مرے ساتھ اس قدر عاقبؔ میں موم تھا وہ تو پتھر بنا گئے مجھ کو
nazar jhukaa ke nazar se giraa gae mujh ko
ریت پہ جب بھی گھر رہے گا یہ کب پھسل جائے ڈر رہے گا یہ پتے اتنے بکھر رہے ہیں کیوں پیڑ کیا سوکھ کر رہے گا یہ ایک تتلی کے رنگ سے کھیلا مجھ کو دکھ عمر بھر رہے گا یہ رنگ ہونٹوں کا اتنا پکا تھا بے نشاں گال پر رہے گا یہ
ret pe jab bhi ghar rahegaa ye
کتنی مشکل سے اس کو ڈھونڈا ہے بے سبب دل کہاں یہ ٹوٹا ہے اچھی صورت کا کیا کریں چرچا اچھی خوشبو سے پھول بکتا ہے اس کے بچوں کی ایسی سیرت ہے ویسے اینٹیں ہیں جیسا خانچہ ہے اس کے وعدے کی کیا میں بات کروں کچا دھاگہ بھی اس سے پکا ہے تیری زلفوں سے بس رہا ہو کر میں نے پنجرے کا درد سمجھا ہے جب میں پھولوں کو پیار کرتا ہوں مجھ کو تتلی سے پیار ملتا ہے پہلے مہنگی تھی پیار کی دولت اب تو دولت سے پیار سستا ہے اس کی فطرت میں بات ایسی ہے جو برا ہے تو وہ بھی اچھا ہے دیکھنے والا ہو اگر عاقبؔ زخم آنکھوں میں دیکھ سکتا ہے
kitni mushkil se us ko DhunDaa hai
جس کے نیزے پہ ہے یہ سر میرا اس کے آنکھوں میں دیکھ ڈر میرا پیاس پانی کو لگ رہی ہوگی آگ کا جسم دیکھ کر میرا ہم غریبوں کا یہ اثاثہ ہے ایک دستار اور یہ سر میرا نقش پا تک نہیں بنے اس کے جب کہ صحرا میں ہے یہ گھر میرا جب سے ٹھکرا دیا ترے غم نے دل یہ پھرتا ہے در بہ در میرا نا خدا ڈوبنے سے کیا بچتا لے کے ڈوبا تھا مجھ کو ڈر میرا میکدہ بن گئیں تری آنکھیں اب تو آنکھوں سے جام بھر میرا
jis ke neze pe hai ye sar meraa





