
Aquib Zamir
Aquib Zamir
Aquib Zamir
Ghazalغزل
بیٹھ کر چائے پی ہم نے جہاں برسات کے بعد تیری خوشبو اسی کمرے میں ہے اس رات کے بعد بس تری بات سنی تھی جو وہی کافی تھی کون سنتا ہے کوئی بات تری بات کے بعد اوئے ہوئے یہ تری انگلیاں برکت والی میرے کاسے میں چمک ہے تری خیرات کے بعد اپنی نظروں کے خزانوں سے دیا جو تو نے ایک تونگر سے لگے ہم تری سوغات کے بعد میں خطا کار رہوں پھر بھی نوازے ایسی اور کوئی ذات نہ دیکھی تری اک ذات کے بعد یوں تو سہتا رہا دھوپوں کی وہ بوچھاریں مگر میرا گھر ٹوٹ گیا تھوڑی سی برسات کے بعد زندگی نے تو ہر اک غم سے نوازا عاقبؔ کیا بچا اور بتا اس کی عنایات کے بعد
baiTh kar chaae pi ham ne jahaan barsaat ke baa'd
موسم کو آزمانا مہنگا پڑے گا تم کو بے وقت چھت پہ آنا مہنگا پڑے گا تم کو یک طرفہ عشق بے شک حق ہے تمہارا لیکن پتھر سے دل لگانا مہنگا پڑے گا تم کو اب سر پھری ہوائیں پتھر اچھالتی ہیں شیشے کا گھر بنانا مہنگا پڑے گا تم کو اہل کرم نے جاری فرمان یہ کیا ہے حق پر قلم اٹھانا مہنگا پڑے گا تم کو یہ زلزلے یہ طوفاں اب بولنے لگے ہیں قدرت کو آزمانا مہنگا پڑے گا تم کو میرے پڑوس ہی میں گھر ہے تمہارا صاحب میرا مکاں جلانا مہنگا پڑے گا تم کو او عشق کرنے والو اس طرح ہر کسی کے دل کو کچل کے جانا مہنگا پڑے گا تم کو بہتر یہی ہے عاقبؔ لو راہ اپنے گھر کی موسم یہ عاشقانہ مہنگا پڑے گا تم کو
mausam ko aazmaanaa mahngaa paDegaa tum ko
ہمیں نہ بزدل سمجھنا دیکھو ہم اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں وطن کی مٹی ہمیں پکارے گی اس سے پہلے ہم آ چکے ہیں فلک سے اونچے قدوں کے مالک تھے میرؔ فیضؔ اور فراقؔ جالبؔ قصیدے حاکم کے در پہ پڑھ کر ہم اپنے قد کو گھٹا چکے ہیں تمہیں تو گھر بیٹھے مل گیا سب تمہارے کاندھوں پہ بوجھ کیا ہے چراغ علم و ہنر تو یارو جلانے والے جلا چکے ہیں ہماری نسلوں کے قتل پر بھی زبان جن کی نہیں کھلے گی ہم ایسے گونگے محافظوں کو خطیب منبر بنا چکے ہیں عذاب سر سے گزر گیا تم جناب عاقبؔ اب آ رہے ہو ہمیں نہیں ہے تمہاری حاجت ہم اپنی لاشیں اٹھا چکے ہیں
hamein na buzdil samajhnaa dekho ham apnaa sab kuchh luTaa chuke hain
زمانے بھر کی نظروں سے یوں زخمی دل چھپاتا ہوں میں اکثر رات میں روتا ہوں دن میں مسکراتا ہوں مجھے بھی جیتنے کا شوق ہے تیری طرح لیکن جہاں رشتے نبھانے ہوں وہاں میں ہار جاتا ہوں اسی انداز نے دنیا سے مجھ کو جوڑ رکھا ہے مجھے جب درد ہوتا ہے میں بے حد مسکراتا ہوں ارے ظلمت کدے کے پاسبانو غور سے سن لو میں اپنے خون دل سے ان چراغوں کو جلاتا ہوں عجب انسان ہو تم کیا تمہیں رونا نہیں آتا چلو دیکھو مری جانب تمہیں رو کر دکھاتا ہوں
zamaane bhar ki nazron se yuun zakhmi dil chhupaataa huun
ہوا کے ڈر سے دیا بجھانا حرام ہوگا سیاہ راتوں سے ہار جانا حرام ہوگا مرے پڑوسی کے بچے بھوکے ہیں تین دن سے مرے لیے اب حلال کھانا حرام ہوگا پوتر شادی کے بندھنوں میں ہے وہ کسی کے اب اس کی جانب نظر اٹھانا حرام ہوگا خدا کے بندو خدا کی خاطر خدا کو ڈھونڈو وگرنہ سجدوں میں سر جھکانا حرام ہوگا جو اس کے من سے نکل گئے ہو جناب عاقبؔ تو اس کے تن پر بھی حق جتانا حرام ہوگا
havaa ke Dar se diyaa bujhaanaa haraam hogaa
فتح کی مانا کہ سوغات نہیں آئے گی میرے حصے میں مگر مات نہیں آئے گی تم مرے پاس دوبارہ بھی چلے آئے تو کیا تم میں جو پہلے تھی وہ بات نہیں آئے گی آج جی بھر کے تجھے دیکھ لوں میں جانتا ہوں لوٹ کر پھر یہ کبھی رات نہیں آئے گی تو نے تو کہہ دیا بس دل سے نکل جاؤ مرے کیا تری یاد مرے ساتھ نہیں آئے گی دل کی ویران پڑی دشت نما دھرتی پر اب کبھی عشق کی برسات نہیں آئے گی بد نصیبی کی بھی مجبوریاں سمجھو عاقبؔ تم سے ملنے تو وہ دن رات نہیں آئے گی
fath ki maanaa ki saughaat nahin aaegi





