
Aquil Ziyad
Aquil Ziyad
Aquil Ziyad
Ghazalغزل
بظاہر پاک دامن لگ رہا ہے گناہوں کا مگر وہ دیوتا ہے محل خوابوں کے ڈہتے جا رہے ہیں مرے ہمراہ کس کی بد دعا ہے اکھڑتی جا رہی ہیں میری سانسیں محبت کا یہ کیسا ذائقہ ہے تجھے دیکھوں تو خود کو میں سنواروں ترا چہرہ سراپا آئنہ ہے منائیں خیر اہل ہوش اپنی جنوں بے باک ہوتا جا رہا ہے وہ قاتل ہے کہ ہے مقتول دانشؔ لہو میں تر بہ تر جس کی قبا ہے
ba-zaahir paak-daaman lag rahaa hai
ہمیشہ اک نہ اک الجھن پریشانی میں رہتے ہیں پتہ کچھ تو چلے کس کی نگہبانی میں رہتے ہیں ہزاروں بے گنہ لوگوں کی جس نے جان لے لی ہے اسی کافر ادا کی ہم ثنا خوانی میں رہتے ہیں ہم اپنے جان و دل کا فیصلہ اب خود ہی کرتے ہیں کسی کا کیا کہ ہم خشکی میں یا پانی میں رہتے ہیں ہم اپنی آنکھ کے خوش رنگ خوابوں کے اشارے پر کبھی دریا کبھی صحرا کی ویرانی میں رہتے ہیں یہی تو منفرد فطرت خدا نے ہم کو بخشی ہے فقیر شہر ہو کر شان سلطانی میں رہتے ہیں
hamesha ik na ik uljhan pareshaani mein rahte hain





