
Aradhana Prasad
Aradhana Prasad
Aradhana Prasad
Ghazalغزل
یہ بتا اے غم کہ اچھا کون ہے تو ہے قاتل تو مسیحا کون ہے جگمگا اٹھے در و دیوار تک دل کی بستی سے یوں گزرا کون ہے دھرمشالہ ہی تو ہے سارا جہاں آ کے سب جاتے ہیں ٹھہرا کون ہے کاش یہ احساس ہو تجھ کو ذرا یاد میں تیری یہ روتا کون ہے خواب دیکھوں میں بھلا کیسے کبھی شب گزر جاتی ہے سوتا کون ہے
ye bataa ai gham ki achchhaa kaun hai
آپ کی حد تلاش کرتے ہیں اپنا دل پاش پاش کرتے ہیں پتھروں کو تراش کر کیوں لوگ دیوتا کو تلاش کرتے ہیں شمع کی لو میں کچھ کمی ہے کیا کیوں پتنگے نراش کرتے ہیں جانتے ہیں نہ وقت لوٹے گا پھر بھی ہم کاش کاش کرتے ہیں ہم تو لوڈو ہی کھیلتے ہیں جناب آپ کیوں تاش تاش کرتے ہیں شہر میں پتھروں کے مدت سے آئنہ ہم تلاش کرتے ہیں آنے والا ہے کوئی پھاگن سا آئیے گھر پلاش کرتے ہیں
aap ki had talaash karte hain
عجیب شام کا منظر دکھائی دیتا ہے جب آفتاب زمیں پر دکھائی دیتا ہے مجھے تو نیل گگن کے وراٹ آنگن میں حسین چاند پہ اک گھر دکھائی دیتا ہے فلک کا بوجھ مقدر میں جس کے لکھا ہو اسے تو چاند بھی پتھر دکھائی دیتا ہے جنہیں بچانا تھا امن و اماں کا شیش محل انہیں کے ہاتھوں میں پتھر دکھائی دیتا ہے جسے تلاش کیا آپ نے زمانے میں مجھے وہ خود ہی کے اندر دکھائی دیتا ہے
ajiib shaam kaa manzar dikhaai detaa hai
صرف امید پر ٹکی مٹی کچھ نئے خواب دیکھتی مٹی اڑ لو جتنا یہیں پہ آؤ گے کہہ رہی ہے زمین کی مٹی روند لو کتنا یہ حقیقت ہے ایک دن سب کو روندے گی مٹی میں نے دیکھا ہے ایسا بھی منظر مٹی مٹی میں مل گئی مٹی پیار جس کو نہیں ملا سمجھو ہو گئی اس کی زندگی مٹی آئنہ کیسے صاف دکھلاتا اس کے چہرے پہ تھی سنی مٹی اک نئی زندگی کی چاہت میں چاک پر گھومتی رہی مٹی
sirf ummid par Tiki miTTi
میرے ہمدم مجھے میری خوشی اور غم سے کیا مطلب تو ایسا تیر ہے جس کو کسی مرہم سے کیا مطلب دکھاتا ہے مجھے تو اس لئے یہ سب کی تصویریں مجھے بس تجھ سے مطلب ہے کسی البم سے کیا مطلب بکھرتے ہیں جو راتوں کو ہرے پتوں پہ کچھ موتی اڑاتی ہے سحر ان کو اسے شبنم سے کیا مطلب تمہارے چاہنے والے ہیں لاکھوں لوگ دنیا میں تمہیں بس ان سے مطلب ہے تمہیں اب ہم سے کیا مطلب مجھے کیا فرق پڑتا ہے دسمبر بیت جانے سے اداسی میری فطرت ہے اسے موسم سے کیا مطلب
mere hamdam mujhe meri khushi aur gham se kyaa matlab
کھلتے کھلتے گل مرجھانا میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ ہنستے ہنستے آنسو آنہ میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ موقع بھی ہے فرصت بھی ہے اور گلوں پر رنگت بھی موسم کا انداز سہانا میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ کس نے یہ زلفیں کھولی ہیں بھیگا بھیگا موسم ہے بادل کا یہ آگ لگانا میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ سنتے ہیں یہ باغ خوشی ہے دور یہاں غم ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں مے خانہ میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ دور غم دنیا سے رہ کر پیار کے نغمے ہم گائیں نظموں کا دل پر چھا جانا میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ اندر اندر میں بکھری ہوں باہر باہر تو بکھرا الفت کا ایسا نذرانہ میں بھی دیکھوں تو بھی دیکھ
khilte khilte gul murjhaanaa main bhi dekhun tu bhi dekh





