SHAWORDS
Archana Johri

Archana Johri

Archana Johri

Archana Johri

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

جنہیں سپنوں کی خاطر روتے دیکھا انہیں سپنوں کو ہی پھر ڈھوتے دیکھا جو بھائی چارے کی کرتے حمایت انہیں نفرت کی فصلیں بوتے دیکھا دکھانا راستا تھا کام جس کا اسی رہبر کو ہم نے سوتے دیکھا جو محفل میں ہنساتے ہیں سبھی کو اکیلے میں انہیں بھی روتے دیکھا جو کہتے ہیں کہ یہ دنیا ہے فانی انہیں کو رنگ و رس میں کھوتے دیکھا

jinhein sapnon ki khaatir rote dekhaa

غزل · Ghazal

وہ راکھوں میں شرارے ڈھونڈتے ہیں ہمیں خود میں ہمارے ڈھونڈتے ہیں کسی کے کام خود آتے نہیں ہیں مصیبت میں سہارے ڈھونڈتے ہیں جنہیں تم چھوڑ کر اک دن گئے تھے تمہیں اب وہ تمہارے ڈھونڈتے ہیں دکھا دیں راہ جو منزل کی ہم کو وہی بس ہم اشارے ڈھونڈتے ہیں جہاں پر اب نہ آئے گا کبھی وہ وہیں پر اس کو سارے ڈھونڈتے ہیں

vo raakhon mein sharaare DhunDte hain

غزل · Ghazal

کوئی شعلہ جلا گیا پھر سے سوئی خواہش جگا گیا پھر سے میں جسے بھولنے ہی والا تھا وہ مجھے یاد آ گیا پھر سے ایک جنگل سی زندگی کاٹی میں نے رو رو کے ہر گھڑی کاٹی چھوڑ کر وہ مجھے گیا اک دن اور وہ ہی دل دکھا گیا پھر سے سامنے وہ مرے کیوں آیا پھر سوئی امید کو جگایا پھر ایک سپنا مرا جو ٹوٹا تھا وہ ہی سپنا رلا گیا پھر سے زندگی راس آ گئی ہوتی ہر خوشی پاس آ گئی ہوتی میں تو اس کا ہوں وہ نہیں میرا اک یہی غم ستا گیا پھر سے کاش یہ دن کبھی نہیں آتا میں اسے بھول بھول ہی جاتا ایک ٹھوکر جہاں پہ کھائی تھی میں وہیں لڑکھڑا گیا پھر سے ہر گھڑی میرا امتحاں کیوں ہے ہائے مشکل میں میری جاں کیوں ہے وہ ملا تھا جہاں مجھے اک دن لو وہی موڑ آ گیا پھر سے

koi sho'la jalaa gayaa phir se soi khvaahish jagaa gayaa phir se

غزل · Ghazal

کیسے کہوں کہ یاد وہ آتا نہیں کبھی ہے سچ یہی کہ ذہن سے جاتا نہیں کبھی کیوں پوچھتے ہو حال مجھے دیکھنے کے بعد چہرہ تو دل کا حال چھپاتا نہیں کبھی سب گنگنا رہے ہیں فسانے غموں کے ہی کیوں گیت پیار کا کوئی گاتا نہیں کبھی آئی گئی بھی بارشیں موسم گئے بدل بادل سکوں کا دل پہ تو چھاتا نہیں کبھی پردہ بہت ہوا ہے اب آ جاؤ سامنے جو چاہتا ہے ایسے ستاتا نہیں کبھی

kaise kahun ki yaad vo aataa nahin kabhi

غزل · Ghazal

جنہیں سپنوں کی خاطر روتے دیکھا انہیں سپنوں کو ہی پھر ڈھوتے دیکھا دکھانا راستہ تھا کام جس کا اسی رہبر کو ہم نے سوتے دیکھا جو محفل میں ہنساتے ہیں سبھی کو اکیلے میں انہیں بھی روتے دیکھا جو کہتے ہیں کہ یہ دنیا ہے فانی انہیں کو رنگ و رس میں کھوتے دیکھا

jinhein sapnon ki khaatir rote dekhaa

غزل · Ghazal

اسے میں بھول جاؤں اے خدا اتنا کرم کر دے رہے وہ خوش جہاں ہو آنکھ چاہے میری نم کر دے مری ہستی ہے تجھ سے ہی اسے اب تو ہی کر کامل جو کم ہے کر عطا جو ہے زیادہ اس کو کم کر دے نہیں یہ چاہ مجھ کو یہ کہ وہ مل جائے مجھ کو ہی وہ جس کو چاہتا ہے اس کو اس کا ہی صنم کر دے تو مجھ کو دے سکوں مولا یا میری جان ہی لے لے تجھے جو فیصلہ کرنا ہو تو میری قسم کر دے

use main bhuul jaaun ai khudaa itnaa karam kar de

Similar Poets