SHAWORDS
Arif Kukravi

Arif Kukravi

Arif Kukravi

Arif Kukravi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وہ سنواریں گے مجھے کیا گل زیبائی تک راس آئی نہ جنہیں میری پذیرائی تک ہار کا صدمہ ہوا ہے کہ ہے سازش کوئی خوش تو تھی خوب محبت مری پسپائی تک پھر تو ممکن ہے کئی اور بھی غم نکلیں گے بات پہنچے گی اگر دست مسیحائی تک عشق تو عشق ہے مت تہ میں تم اس کی اترو ڈوبنے والے بھی پہنچے نہیں گہرائی تک عشق کی راہ میں کتنی ہی لکیریں کھینچو آگ پہنچے گی بہرحال تمنائی تک اب خدا جانے گزر جائے گی مجھ پر کیا کیا وہ مجھے چھوڑ گیا ہے مری تنہائی تک تو کہاں حد سخنور کی ہے زد میں عارفؔ صرف محدود ہے تو قافیہ پیمائی تک

vo sanvaareinge mujhe kyaa gul-e-zebaai tak

غزل · Ghazal

سواد شام سفر کا ملال کچھ بھی نہیں کروں میں عرض بھی کیا عرض حال کچھ بھی نہیں دل حزیں کا بیاں لاکھ کیجیے بھی تو کیا اگرچہ اس کو ہمارا خیال کچھ بھی نہیں بلا کی آرزو پالے ہوئے ہے دل یہ ہنوز اس آرزو کے لیے ماہ و سال کچھ بھی نہیں نشان خلوت شب دل پے نقش ہے لیکن فریب عشق کا ہم کو ملال کچھ بھی نہیں خموشیاں بھی بہت کچھ بیان کرتی ہیں بیان عشق کو لفظ و خیال کچھ بھی نہیں سنیں گے آپ بھی اک دن دل شکستہ سے عروج کچھ بھی نہیں ہے زوال کچھ بھی نہیں سوال ذہن میں یوں تو ہزاروں ہیں عارفؔ مگر یہ کیا ہے کہ اس سے سوال کچھ بھی نہیں

savaad-e-shaam-e-safar kaa malaal kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

جو خلاؤں میں چمکتے ہیں اجالے لے کر تیرے ہی در سے وہ لوٹے ہیں ضیا لے لے کر سنگریزوں سے ملی آبلہ پائی جس کو کس کو دکھلائے کہاں جائے وہ چھالے لے کر کل کسی بات پہ بھائی سے بحث کر بیٹھا لوگ آئے ہیں نمک داں میں دوا لے لے کر خاک چھانے ہے کوئی کوئے عدالت کی میاں درجنوں سر پہ ثبوتوں کے حوالے لے کر ہو کے بے خوف ستم کردہ ہواؤں سے ہنوز کوئی پہنچا ہے اندھیروں میں اجالے لے کر رک مرے دل ذرا تفتیش تو کرنے دے مجھے کیسے آئی ہے خزاں رنگ نرالے لے کر آج پھر جان لٹا دے گا کوئی پروانہ شمع روشن جو ہوئی موت کے بھالے لے کر

jo khalaaon mein chamakte hain ujaale le kar

غزل · Ghazal

اپنی خواہش کے اگر پنکھ کترتے بنتے دشت و صحرا میں بھی ہموار یہ رستے بنتے اس دل شوخ کی بس ایک نظر ہے کافی دیر لگتی نہیں احساس کے رشتے بنتے آئنہ خانے ہی لوگوں کا بھرم رکھتے ہیں ورنہ ہر لمحے تو چہرے نہ بدلتے بنتے کوئی تو ہے جو ہرانے پے تلا ہے مجھ کو بات یوں ہی تو نہیں بگڑے ہے بنتے بنتے تا کجا دل کو تسلی پے تسلی دیتے تا کجا راہ تمنا سے نہ چلتے بنتے گرچہ ہوتی نہ مری زیست کی مبہم یہ کتاب زندگی سب ترے اوراق یہ پڑھتے بنتے صبر کی مات جو ہوتی تو یہ ہوتا عارفؔ دل کے ارمان سر راہ کچلتے بنتے

apni khvaahish ke agar pankh kutarte bante

غزل · Ghazal

کسی کے حسن و ادا پر جو تبصرہ کیجے فلک اساس ارادوں سے ابتدا کیجے کوئی تو حد ہو مقرر ستم گری کی تری اگرچہ صبر جو کیجے بھی تا کجا کیجے قرار دل کا نہاں ہے اسی میں جاناناں ہماری سمت بھی چشم ستم ذرا کیجے اسیر پنجۂ مژگاں ہیں جانے کب سے ہم ہمارے درد جگر کا معالجہ کیجے مجھے خبر ہے مری دسترس نہیں اس تک مگر اسے ہی یہ دل چاہتا ہے کیا کیجے یہ ٹوٹ کر جو بکھرنے کی چاہ رکھتا ہے کبھی تو پوری تمنائے آئنہ کیجے نیا نہیں ہے دلوں کا یہ ٹوٹنا عارفؔ میں کہہ رہا ہوں ذرا سا تو حوصلہ کیجے

kisi ke husn-o-adaa par jo tabsira kiije

Similar Poets