
Armaan Khan
Armaan Khan
Armaan Khan
Ghazalغزل
حسن کا امکان سمجھا دیر سے میں نفع نقصان سمجھا دیر سے اس کے عاشق اس کے بارے میں مرا بھر رہے تھے کان سمجھا دیر سے مجھ کو پہلے دن سے اس سے عشق تھا اور وہ نادان سمجھا دیر سے جو سمجھنا زندگی کی شرط تھی اس کو ہی انسان سمجھا دیر سے
husn kaa imkaan samjhaa der se
کس سے کس کس پر کریں شکوہ گزاری چھوڑیئے زخم پر ہنستے ہیں سارے باری باری چھوڑیئے آپ کہیے آپ کو کس بات کا دکھ کھا رہا ہم نے کتنی کروٹوں میں شب گزاری چھوڑیئے ایک ادھر جو آپ کے ہی عشق کا بیمار میں اور اس پر آپ کی تیمارداری چھوڑیئے آپ کی سادہ دلی ڈوبے گی لے کر آپ کو آپ سنتے ہی نہیں لیکن ہماری چھوڑیئے آج اس نے فون پر پوچھا ہے پھر کیسے ہو تم یہ محبت ہے یا کوئی ہوشیاری چھوڑیئے ہاں یہ طے ہے تب ملے گی بے سکونی سے نجات ہاں مگر اک شرط ہے یہ دنیا داری چھوڑیئے
kis se kis kis par karein shikva-guzaari chhoDiye
وہ کبھی عشق کا عنوان ہوا کرتا تھا میں بھی تب عشق پہ قربان ہوا کرتا تھا عشق نے میرے خدا کر دیا اس کو شاید پہلے پہلے وہ بھی انسان ہوا کرتا تھا جو ابھی جان کا دشمن ہے کبھی ایسا تھا ہاں وہ ہی شخص مری جان ہوا کرتا تھا کون گزرا ہے کہ اس دل میں بڑی رونق ہے یہ تو وہ گھر ہے جو ویران ہوا کرتا تھا شاعری کرتے ہوئے جان گئے ہیں کچھ لوگ ورنہ گمنام سا ارمانؔ ہوا کرتا تھا
vo kabhi 'ishq kaa 'unvaan huaa kartaa thaa
یہ کیسی محبت تھی کہ غم تک نہیں پہنچے کچھ تو تھی کمی آخری دم تک نہیں پہنچے یا اپنی دعا ہی نہیں پہنچی ترے در تک یا ہم ہی خدا تیرے کرم تک نہیں پہنچے محرومیٔ الفت کہ یہ حد ہے کہ خدایا دیدار تو پھر خیر ستم تک نہیں پہنچے سننا ہے سناؤں میں محبت کے نتائج وہ وہ رہے میں میں رہا ہم تک نہیں پہنچے یہ کس کا لہو چیخ رہا جنگ کی خاطر یہ کون ہیں جو اب بھی قلم تک نہیں پہنچے
ye kaisi mohabbat thi ki gham tak nahin pahunche
شہروں کی چکا چوندھ سے اکتائے ہوئے لوگ ہنستے ہیں بہت زور کے گھبرائے ہوئے لوگ اے نیند تجھے مجھ سے شکایت ہے تو مت آ پر مان لے آتے نہیں یاد آئے ہوئے لوگ اک وہ ہے جو بیمار ہے دنیا کے دکھوں سے پھر آتے ہیں اس شخص کے ٹھکرائے ہوئے لوگ اے دور شہنشاہ محبت نہیں مرتی زندہ ہیں ابھی تک ترے چنوائے ہوئے لوگ تھک ہار کے دنیا سے جو آئے ترے در تک اب جائیں کہاں پر ترے لوٹائے ہوئے لوگ
shahron ki chakaa-chaundh se uktaae hue log





