Arman Rampuri
Arman Rampuri
Arman Rampuri
Ghazalغزل
مری نگاہ میں ساقی بھی ہے شراب بھی ہے کہ ماہتاب بھی ہے اور آفتاب بھی ہے مجھی کو خنجر قاتل نے انتخاب کیا مرا ہی قتل گنہ بھی ہے اور ثواب بھی ہے خدائی بھر کا جو حصہ تھا دے دیا مجھ کو مرے غموں کا الٰہی کوئی حساب بھی ہے بھلائے بیٹھے ہیں ارماںؔ نظام روز و شب مری نگاہ میں گل رو بھی ہے نقاب بھی ہے
miri nigaah mein saaqi bhi hai sharaab bhi hai
ترے نام سے مجھے عشق ہے ترا کیا نشاں ہے خبر نہیں ہے خبر بھی گر تو اسی قدر تو کہاں نہیں تو کدھر نہیں کبھی جا کے کوہ میں گھر گیا کبھی جا کے دشت بسا لیا جسے لا مکاں کی ہو جستجو کہیں اس کا گھر نہیں در نہیں غم زندگی بھی لٹا دیا زہے جس نے راہ فراق میں جسے اپنے تن کا نہ ہوش ہو وہ ہے اور کوئی بشر نہیں مجھے مست جام شراب کر نہ تو رخ کو زیر نقاب کر کسے بے خودی میں یہ ہوش ہو ترا جلوہ شام و سحر نہیں کوئی دیکھے ارماںؔ کی بے بسی ہے عجیب حالت بے کسی نہیں ضبط سے کوئی فائدہ کرے آہ تو بھی اثر نہیں
tire naam se mujhe ishq hai tiraa kyaa nishaan hai khabar nahin
اس بزم میں میرا کوئی دم ساز نہیں ہے شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ مانا کہ ابھی تو مرا ہم راز نہیں ہے تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے جنت سے چلی آئے اگر حور تو بے کار وہ ناز نہیں اس میں وہ انداز نہیں ہے ہنگامۂ ہستی میں ہوں ارمانؔ میں مجبور یہ تیری صدا ہے مری آواز نہیں ہے
is bazm mein meraa koi dam-saaz nahin hai
پایندہ حسن و زینت باغ جہاں نہیں وہ کون سی بہار ہے جس کو خزاں نہیں واقف وہ میرے حال سے میں ان کے حال سے شرم و حیا سے گفتگو گو درمیاں نہیں اس کی نگاہ پھرتے ہی سب ہم سے پھر گئے وہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیں اے بادہ نوش پیتا ہے خلوت میں چھپ کے تو وہ کون سی جگہ ہے بتا وہ جہاں نہیں الفت کا یہ اثر ہے کہ رگ رگ میں ٹیس ہے میں کیا بتاؤں درد کہاں ہے کہاں نہیں دنیا ہو بد گمان نہیں اس کا غم مجھے اے دل ہزار شکر کہ وہ بد گماں نہیں
paainda husn-o-zinat-e-baagh-e-jahaan nahin
حسن جب بے نقاب ہوتا ہے عشق خانہ خراب ہوتا ہے کتنے معصوم دل جلا ڈالے اک قیامت شباب ہوتا ہے غیر سے باندھتے ہو عہد وفا ہم سے لیکن حجاب ہوتا ہے میں نے مانا کہ خواب ہے الفت کتنا شیریں یہ خواب ہوتا ہے کس کی نظروں سے پی رہا ہوں میں کون مست شراب ہوتا ہے جب لب بام آپ آتے ہیں جلوہ گر ماہتاب ہوتا ہے آئنہ اس کے روبرو ہو تو وہ آپ اپنا جواب ہوتا ہے
husn jab be-naqaab hotaa hai





