
Arsh Sahbai
Arsh Sahbai
Arsh Sahbai
Ghazalغزل
ان کی یادوں کی حسیں پرچھائیاں رہ جائیں گی دل کو ڈسنے کے لئے تنہائیاں رہ جائیں گی ہم نہ ہوں گے پھر بھی بزم آرائیاں رہ جائیں گی اپنی شہرت کے لئے رسوائیاں رہ جائیں گی ہم خلا کی وسعتوں میں اس طرح کھو جائیں گے دور تک بکھری ہوئی تنہائیاں رہ جائیں گی مٹ نہ پائیں گے کسی صورت بھی ماضی کے نقوش دل کی دیواروں پہ کچھ پرچھائیاں رہ جائیں گی ہم مسافر ہیں نکل جائیں گے ہر بستی سے دور اور ہم کو ڈھونڈھتی پروائیاں رہ جائیں گی پھول سے خوشبو کی صورت ہم جدا ہو جائیں گے یہ بہاریں یہ چمن آرائیاں رہ جائیں گی مثل نغمہ ہم فضا میں جذب ہو جائیں گے عرشؔ گنگناتی گونجتی شہنائیاں رہ جائیں گی
un ki yaadon ki hasin parchhaaiyaan rah jaaeingi
میں ہوں ایسے بکھرا سا جیسے خواب ادھورا سا دور دور تک پھیلا ہے یادوں کا اک صحرا سا بے شک آپ نہیں آتے کر دیتے کوئی وعدہ سا غم سے آنکھیں بوجھل ہیں دل بھی ہے کچھ بکھرا سا میں اس کی نظروں میں ہوں کاغذ کا اک ٹکڑا سا عقل و جنوں میں رہتا ہے کوئی نہ کوئی جھگڑا سا ان سے دل کی بات کہی بوجھ ہوا کچھ ہلکا سا اڑی اڑی سی رنگت ہے ہر کوئی ہے سہما سا اس کو حق ہے جو بھی کرے وہ ہے میرا اپنا سا میرا یہی اثاثہ ہے اک دل وہ بھی ٹوٹا سا آپ تو چپ سے رہتے ہیں میں ہوتا ہوں رسوا سا عرشؔ نگاہوں میں اکثر لہرائے اک سایا سا
main huun aise bikhraa saa
مستیٔ بادۂ گلفام سے وابستہ رہی زندگی رقص مے و جام سے وابستہ رہی لوگ کہتے ہیں کہ کچھ اس میں مرا ذکر بھی تھا وہ حکایت جو ترے نام سے وابستہ رہی دل جو گھبرایا تو مے خانے میں ہم جا بیٹھے ہر خلش بادۂ گلفام سے وابستہ رہی اس کی مجبورئ پیہم پہ ذرا غور کریں جو تمنا دل ناکام سے وابستہ رہی عرشؔ مدت ہوئی گو ترک مے و جام کئے پھر بھی تہمت یہ مرے نام سے وابستہ رہی
masti-e-baada-e-gulfaam se vaabasta rahi
آرزو رقص میں ہے وقت کی آواز کے ساتھ زندگی نغمہ سرا ہے نئے انداز کے ساتھ زندگی دیکھ نہ یوں اجنبی انداز کے ساتھ ہم کو نسبت ہے تری چشم فسوں ساز کے ساتھ اس کے مذکور سے لبریز ہیں نغمے اس کے اس نے مرغوب کیا دل کو کس اعجاز کے ساتھ یہ حقیقت میں زمانے کی خبر رکھتے ہیں سہمے سہمے سے ہیں جو حسرت پرواز کے ساتھ دل ہے سر چشمۂ نغمات اگر ٹوٹ گیا کتنے نغمات بکھر جائیں گے اس ساز کے ساتھ وقت کی بات ہے اب کوئی نہیں ان کا وقار جو کبھی بات بھی کرتے تھے بڑے ناز کے ساتھ کیا کہیں بن گئے ہم سب کی نظر کا مرکز اس نے کیا دیکھ لیا اجنبی انداز کے ساتھ عرشؔ جو درد میں ڈوبے ہوئے دل سے نکلے چند شعلے بھی لپکتے ہیں اس آواز کے ساتھ
aarzu raqs mein hai vaqt ki aavaaz ke saath
ہنگامہ ہائے بادہ و پیمانہ دیکھ کر ہم رک گئے ہیں راہ میں مے خانہ دیکھ کر با احترام ساغر و مینا بڑھا دیئے ساقی نے میری جرأت رندانہ دیکھ کر پھر یاد آ گئی ہے تری چشم مے فروش محفل میں رقص بادہ و پیمانہ دیکھ کر حیراں ہوں ان کے دیدۂ حیراں کو کیا کہوں دیوانے ہو گئے مجھے دیوانہ دیکھ کر توبہ کا احترام بھی لازم رہا مگر نیت بدل گئی مری پیمانہ دیکھ کر ہر آستاں سے گرچہ رہے بے نیاز ہم سجدے میں گر گئے در مے خانہ دیکھ کر
hangaama-haa-e-baada-o-paimaana dekh kar
یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے نظر کرتی ہے اظہار محبت یا زباں پہلے اگر ہو دیکھنا مقصود بربادی کا نظارہ جلا کر دیکھیے اک بار اپنا آشیاں پہلے پہنچ کر منزل ہستی پہ یہ احساس ہوتا ہے کہ گزرے ہیں یہاں سے اور بھی کچھ کارواں پہلے کئی معصوم کلیاں جو ابھی کھلنے نہ پائی ہوں مسل دیتے ہیں اپنے ہاتھ سے خود باغباں پہلے ٹھہر اے گردش ایام ہم بھی ساتھ چلتے ہیں اٹھا لینے دے فیض صحبت پیر مغاں پہلے
ye dekhein raaz-e-dil ab kaun kartaa hai ayaan pahle





